30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام علاء الدین سمر قندی نے تحفۃ الفقہاء اورامام مالك العلماء ابو بکر مسعود نے بدائع میں اسی کی تصریح فرمائی ۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے:
|
صرح فی تحفۃ الفقھاء عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکك واسواق ولھارساتیق وفیھا والٍ یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمۃ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھوالاصح[1]۔ |
تحفۃ الفقہاء میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے تصریح ہے کہ بڑے شہر سے مراد وہ آبادی ہے جس میں محلے اور بازار ہوں، اس کے متعلق کچھ دیہات ہوں ،وہاں کوئی ایسا با اختیار شخص ہو جو اپنی حشمت اور علم یا دوسرے کے علم کے ذریعے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے اور لوگ حوادثات کی صورت میں اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے۔(ت) |
کتبہ جلیلہ معتمدہ میں ظاہرا لروایہ یعنی مذہب مہذب حنفی سے بالالفاظِ مختلفہ جتنی نقول ہیں سب کا مآل یہی ہے مثلًا ہدایۃ ومتنِ کنز میں فرمایا:
|
ھو کل موضع لہ امیر وقاض ینفذا الاحکام ویقیم الحدود٢[2]۔ |
ہر وہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر یا قاضی ہو جو احکام نافذ کر سکے اور حدود کا اجرا کرسکے۔(ت) |
اس میں سکك وا سواق ورساتیق کا ذکر نہیں اور عبارت آتیہ غیاثیہ میں بجائے سکك جماعات ہیں اور رساتیق مذکور نہیں،اُسی کی دوسری عبارت میں فتاوٰی سے رساتیق کا ذکر فرمایا سکك واسواق کو ترك کیا کہ
|
فی الفتاوی الوصلی الجمعۃ فی قریۃ بغیر مسجد جامع والقریۃ کبیرۃ لھا قری وفیھا وال وحاکم جازت الجمعۃ بنوا المسجد اولم یبنوہ وان کان بخلاف ذلك لایجوز وھذاقول ابی القاسم |
فتاوٰی میں ہے اگر کسی نے قریہ میں بغیر جامع مسجد کے جمعہ پڑھا اور قریہ اتنا بڑا ہو جس کے کچھ دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم و والی بھی موجود ہو تو نمازِجمعہ درست ہوگی خواہ وہ مسجد بنائیں یا نہ بنائیں، اور اگر اس کے خلاف ہو تو جمعہ درست نہ ہو گا یہ شیخ ابوالقاسم الصفار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع