30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساٹھ ستّر سے زیادہ نہیں مسجد نہیں بھر سکتی مگر عید کے موقع پر گاؤ ں والے شریك ہوتے ہیں اور مسجد بھر جاتی ہے۔
(١) جمعہ کی ادا کے لئے شہر
شرط ہے یا نہیں؟
(٢) شہرکس کو کہتے ہیں اکبر مساجد کی تعریف روایت مذہب ہے یا نہیں؟
(٣) جب قدرت اجرائے حدود شرط ہے اور بالفعل ضرور نہیں تو توانی کی وجہ سے تعریف مذکور کو اختیار کرنا اور ظاہر مذہب کو ترك کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے؟
(٤) علمائے حنفیہ کے اختلاف کی وجہ سے احتیاطی ظہر تجویز ہوئی مگر جہاں حنفی مذہب کے موافق تحقیق شروط نہ ہو اور دیگر مذاہب کے موافق ہو وہاں کیونکر جائز نہیں ۔خروج اختلاف کی علت دونوں جگہ موجود ہے اعنی وہاں بھی جمعہ اور احتیاطی ظہر پڑھ لینا چاہئے؟
(٥) کل موضع لہ امیر وقاض الخ (ہروہ مقام جہاں کوئی ایسا امیر اور قاضی ہو الخ۔ت) سے استدلال عدم جواز جمعہ دار حرب پر ہو سکتا ہے یا نہیں؟
(٦) کیفیتِ مذکور کی رو سے
کہاں جمعہ جائز ہے اور کہاں نہیں؟
(٧) جہاں ناجائز ہے انھیں منع کیا جائے یا نہیں ،اور ان کی ظہر کا کیا حکم ہے؟
(٨) جہاں بادشاہ مسلمان نہ ہو وہاں جمعہ کا کیا حکم ہے اور حکومت کفار میں جمعہ
کیوں جائز ہے؟
(٩) یہ ملك دارِ حرب ہے یا نہیں؟
(١٠) دارِ حرب کی کیا تعریف اور کس طور سے دارِ حرب دارِ اسلام بنتا ہے اور دارِ
اسلام دارِ حرب بنتا ہے؟
(١١) جہاں شروطِ جمعہ نہ پائے جائیں وہاں عید کی نماز کا کیاحکم ، اگر جائز نہیں تو پڑھ لینے سے کیا خرابی ہے اگر اپنے مذہب کے طور پر واجب نہیں تو دوسرے مذہب مثل شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی علیہ کے تو واجب ہے اور خروج عن الاختلاف ہوجائے گا؟
(١٢) ہماری جگہ شہر گنا جاتا ہے اور ایك مسجد ہے مصلی باشندے اسے بھر نہیں سکتے ،یہاں جمعہ کا کیا حکم ہے بینوا تو جروا۔
الجواب:
جمعہ کے لئے ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اتفاق و اجماع سے شہر شرط ہے شہر کی صحیح تعریف مذہب حنفی میں یہ ہے جو خود امامِ مذہب سیّدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمائی ،وہ آبادی جس میں متعدد محلّے اور دوامی بازار ہوں اور وہ ضلع یا پرگنہ ہواُس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں کوئی حاکم با اختیار ایسا ہو کہ اپنی شوکت اور اپنے یا دوسرے کے علم کے ذریعہ سے مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع