30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مغرب و خفتن وفجر و جمعہ و عیدین درمیان قرأت سہ آیۃ یا زائد از سہ آیۃ سہو کرد و مقتدی او رامیان نماز مذکورہ بالا لقمہ دادو مقتدی خود گرفت نماز امام و مقتدی درست شد یا نہ ۔بینو ا تو جروا |
کیا فرماتے ہیں کہ امام نمازِ مغرب ،عشاء ،فجر،جمعہ اور عیدین میں قرأت کرتے ہوئے تین آیات سے زائد پڑھ کر بھول گیا ایسی صورت میں مقتدی نے لقمہ دیا اور امام نے اس کا لقمہ قبول کرلیا تو امام اور مقتدی کی نمازدرست ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔ |
الجواب:
|
صحیح است مطلقا در ہر نماز و بہر حال اگر چہ بعد سہ آیت باسد ہمیں است قول صحیح الدر المختار فتحہ علی امامہ لایفسدمطلقا بفاتح واٰخذ بکل حال١[1]الخ فی ردالمحتار ای سواء قرأ الامام قدر مایجوز بہ الصلٰوۃ ام لا انتقل الی اٰیۃ اخری ام لا تکرر ام لاھو الاصح نھر[2] واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم ۔ |
نماز مطلقًا درست ہے ہر نماز میں ہر حال میں رضی اﷲ عنہ لقمہ اگرچہ وُہ تین آیات کے بعد ہو درست اور صحیح قول یہی ہے ۔دَرمختار میں ہے امام کو لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی نہ لقمہ دینے والے کی اور نہ لینے والے کی ہر حال میں الخ ردالمحتار میں ہے خواہ امام نے اتنی قرأت کرلی ہو جس سے نماز ہوجاتی ہے یا نہ کی ہو امام کسی اور آیت کی طرف منتقل ہوچکا ہو یا نہ ہوا ہو ، لقمہ بار بار ہو یا نہ ہو ،اصح یہی ہے نہر۔ واﷲ سبحٰنہ تعالٰی اعلم |
مسئلہ نمبر ٥٤٠: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا اناشانئك یابلہ،کو لاہ یا لھم کو لاھم مغفرۃ باشباع فتحہ یا الحمد ﷲ الحمد لیلہ باشباع کسرہ یاقل کو قول با شباع ضمہ پڑھنا عمدًا یا سہوًا مفسد صلٰوۃ ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
الجواب:
عمدًا گناہ ِ عظیم ہے اور سہوًا معاف اور فساد ِ نماز کسی حالت میں نہیں لان الاشباع لغۃ مرقوم من العرب کالاکتفاء عن المدۃ بالحرکۃ کما نص علیہ فی الغنیۃ و غیرھما(کیونکہ اشباع عرب کی معروف لغت ہے جیسا کہ مدہ کی جگہ حرکت پر اکتفا کیا جاتا ہے غنیہ اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع