30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رکعۃ سورۃ [1]۔ |
ایك سورۃ ان سورتوں میں سے جو مذکور ہوئےں پڑھے(ت) |
دُر مختار میں ہے:
|
من الحجرات الی اٰخری البروج ومنھا الٰی اٰخر لم یکن اوساطہ وباقیہ قصارہ ٢[2] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حجراتا(سے آخر بروج تك طوال مفصّل اور سورتوں کا بقیہ حصہ قصارمفصل کہلا تا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ نمبر ٥٣٠: از محلہ سوداگران مدرسہ منظرالاسلام ١٧ جمادی الثانی١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو تین آیتوں کے بعد غلطی ہوئی معنٰی بگڑ گیا جبکہ سورہ یوسف شریف میں چار آیت بعد رَأَیْتُھُمْ کی جگہ رَأَ یْتَھُمْ پڑھا اس حالت میں نماز ہوگئی یا نہیں؟
الجواب فسادِ معنی اگر ہزار آیت کے بعد ہو نماز جاتی رہے گی ،مگر یہاں رایئتھم میں ت کا زبر پڑھنا مفسدِ نماز ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٥٣١: از ہ بروگ مسئولہ محمد علی ٦ رجب المرجب پنجشنبہ ١٣٣٦ھ
قبلہ و کعبہ جناب مولوی صاحب دام اظلالکم ، السلام علیکم بعداوائے آداب دست بستہ تسلیمات گزارش خدمت میں یہ ہے کہ نمازِ ظہر و عصر کے وقت امام کے پیچھے مقتدی کو حسبِ معمول پڑھنا چاہئے یا سکوت واجب ہے؟
(٢) نمازِ مغرب و عشاء کے فرضوں کی ادائیگی میں مقتدی کو چاروں رکعتوں میں سکوت لازم ہے یا اوّل کی دو٢ میں اور آخری دو میں نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
مطلقًا کسی نماز کی کسی رکعت میں مقتدی کو قرأت اصلًا جائز نہیں نہیں قطعًا خاموش کھڑا رہے ،صرف سبحٰنك اللھُم شامل ہوتے وقت پڑھے جبکہ امام نے قرأت بجہر شروع نہ کی ہو۔دُرمختار میں ہے :
|
المؤ تم لا یقرأ مطلقا ولا الفاتحۃ فی |
مقتدی مطلقًا قراءت نہ کرے نہ جہری نماز میں نہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع