30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سورت اوّل سے پڑھے تو اس پر بسم اﷲ کہنا مستحب ہے اور کچھ آیتیں کہیں اور سے پڑھے تو اس پر کہنا مستحب نہیں ، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیہ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا کسی جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٥٢٨: از شہرمحلہ سوداگران مسئولہ مولوی احسان علی مرحوم کا طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ١٨ صفر ١٣٢٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اوّل رکعت میں ایك رکوع یا سورہ پڑھی دوسری رکعت میں اگر اس سے مقدم کی سورہ یا رکوع زبان پر سہوًا جاری ہوجائے تو اس کو پڑھے یا مؤخر کی سورہ یا رکوع پڑھے اس کو چھوڑ کر، اگر پڑھ کر نماز تمام کرلی تو ہوئی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
زبان سے سہوًا جس سورہ کا ایك کلمہ نکل گیا اسی کا پڑھنا لازم ہوگیا مقدم ہو خواہ مکرر ،ہاں قصدًا تبدیلِ ترتیب گناہ ہے اگر چہ نماز جب بھی ہوجائے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر٥٢٩: از تحصیل اترولی ضلععلی گڑھ مسئولہ محمد حسین محرر جو ڈیشل ١٦ جمادی الاولٰی ١٣٣٩ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
ایك مسئلہ پر بحث درپیش ہے اور آپس میں مباحثہ لفظی ہو رہا ہے وہ یہ کہ امام نے بوقتِ نمازِ مغرب رکعت اوّل میں سورہ دھرقرأت کی اور اس قدر پڑھا اور سہو ہ ہو گیا پھر رکوع کردیا
وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا۠ؔؔ﴿ۙ۱۵﴾ قَوَارِیْرَا۠ؔؔ مِنۡ فِضَّۃٍ نشانی آیت پر حرف لاموجودہے اما م اعظم صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے یہاں اس قدر قرأت پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب:
نماز بے تکلف بلا کراہت ہوگئی ، تین آیات کی قدر واجب ادا ہوجاتاہے اور یہ تو پندرہ آیتیں ہوگئیں بلکہ مغرب میں اتنی تطویل مناسب بھی نہ تھی کہ اس میں قصار مفصل یعنی لم یکن سے آخر تك ہر رکعت میں ایك سورت پڑھنے کا حکم ہے یہ اُس سے زائد ہوگیا،تنویر ودرمختار میں ہے:
|
یسن فی الحضرالامام ومنفرد طوال المفصل فی الفجر والظھر واوساطہ فی العصر والعشاء و قصارہ فی المغرب ای فی کل |
(مقیم ہونے کی صورت میں امام و منفرد دونوں کی ) نمازِ فجر اور ظہر کی نماز میں طوال مفصل اورعصر و عشاء میں اوساط مفصل اور نمازِمغرب میں قصار مفصل پڑھنا مسنون ہے یعنی ہر رکعت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع