30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالاٰیۃ التامۃ طویلۃ کانت اوقصیرۃ کقولہ تعالٰی مدھامتٰن وماقالہ ابوحنیفۃ اقیس [1]۔ |
ایك مکمل آیت ہے وہ آیت لمبی ہو یا چھوٹی ۔جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے مدھامتٰناورامام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے جو کچھ فرمایا ہے وہی زیادہ قرینِ قیاس ہے۔(ت) |
اقول: اظہر یہی ہے مگر جبکہ ایك جماعت اُسے ترجیح دے رہی ہے تو احتراز ہی میں احتیاط ہے خصوصًا اس حالت میں کہ اس کی ضرورت نہ ہوگی مگر مثل فجر میں جبکہ وقت قدر واجب سے کم رہا ہو ایسے وقت ثم نظرکہ بالاجماع ہمارے امام کے نزدیك ادائے فرض کو کافی ہے مُدْہَآمَّتَانِسے جلد ادا ہوجائے گا کہ اس میں حرف بھی زائد ہیں اور ایك مد متصل ہے جس کا ترك حرام ہے ،ہاں جسے یہی یاد ہو اُس کے بارے میں وُہ کلام ہوگا اور احوط اعادہ ۔واﷲ تعالٰی۔
مسئلہ نمبر ٥١٧: مسئولہ احسان علی مظفر پوری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی بتاریخ ٣ ذی الحجہ ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیت (oلا ) پر ٹھہرنایا رکوع یا وقف کرنا کیسا ہے کیا قباحت ہے اگر جس آیت پر(لا)ہے اُس پررکوع کر دیا تو جائز ہے یا نہیں ،مثلًا اُوپر سے پڑھتا آیا اور صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوۡنَ پر رکوع کردیا تو جائز ہے یا کچھ حرج بھی ہے؟
الجواب:
ہر آیت پر وقف مطلقًا بلا کراہت جائز بلکہ سنت سے مروی ہے،رہا رکوع اگر معنی تام ہوگئے جیسے آیت مذکورہ میں اس کے بعد دوسری مستقل تمثیل ارشاد ہے جب تو اصلًا حرج نہیں، اگر معنی بے آیت آئندہ کے نا تمام ہیں تو نہ چا ہئے خصوصًا امثال فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾میں نہایت قبیح ہے اور ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾میں قبیح اس سے کم ہے نماز بہر حال ہوجائے گی۔
مسئلہ نمبر ٥١٨: ازمانیا والا ڈاکخانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنورمرسلہ سیّد کفایت علی صاحب ٥ ربیع الاوّل شریف ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے پہلی رکعت میں قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی دوسری میں قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِپڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا اس مسئلہ کا حکم بیان فرمایئے۔بینوا توجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع