30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دریں صورت فساد معنی نیست۔واﷲ تعالٰی اعلم |
ان میں بعض وہ ہیں جس سے شیئ عجیب صادر ہوتی ہے کہ جب وہ پھٹتے ہیں تو اس سے نہریں جاری ہوتی ہیں ،الغرض اس صورت میں فساد معنی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ نمبر ٥١١: از الہ آباد محلہ نخاس کہنہ بر مکان دھوم شاہ صاحب مرسلہ محمد ناظم آزاد حقانی مظفر پوری مقیم حال الہ آباد ١١ رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ مین کہ نماز ِ جمعہ میں اما م الحمدکی تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو اور قرأت سے رك گیا ہو پیچھے سے کسی مقتدی نے لقمہ دیا اس نے بجائے لقمہ لینے کے خود سورت کو اعادہ کیا، جس آیت پر رُکا تھا اس آیت کو نکال کر سورت کو پُورا کیا بعد ازاں رکوع و سجود وغیرہ کیا بعد میں لقمہ دینے والے مقتدی سے امام نے کہا کہ تمہاری نماز باطل ہوگئی اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مقتدی کو لقمہ دینا چاہیئے یا نہیں ؟اور ایسی صورت میں لقمہ دینا جائر ہے یا نہیں ؟ اور صورت مسئولہ میںمقتدی کی نماز ہوگئی یا نہیں؟
الجواب:
مقتدی و امام سب کی نماز ہوگئی مقتدی لقمہ دے سکتا ہے اگر چہ امام سَو آیتیں پڑھ چکا ہو یہی صحیح ہے،امام نے جس خیال پر نمازِ مقتدی باطل مانی امام کی خود کب ہوئی، اگر وہ خیال صحیح ہو تو امام کی بھی باطل ہوئی کہ لقمہ دینا کلام ہے اور وہ باجازتِ شرع رکھا گیا ، اگر تین آیتوں کے بعد اجازت ِشرع نہ تھی تو مقتدی کی نماز گئی اور اس کے لقمہ دینے سے امام کو یاد آگیا تو اس نے خارج از نماز سے تعلیم پاکر آیت پڑھی اور شروع سورت سے اعادہ کرنا اس یاد دہانی کو باطل نہیں کرسکتا توامام کی اپنی بھی گئی اور اس کے سبب سے سب کی گئی ۔رہا یہ کہ صرف اس مقتدی کی نماز باطل ہوئی امام و جماعت کی ہوگئی یہ محض باطل ہے اور صحیح وہ ہے کہ سب کی ہوگئی۔دُرمختار میں ہے:
|
فتحہ علی امامہ فانہ لا یفسد مطلقا لفاتح واٰخذ بکل حال الا اذا سمعہ الموتم من غیر مصل ففتح بہ تفسد صلاۃ الکل[1]۔ |
مقتدی کا اپنے امام کو لقمہ دینا نماز کے لئے مطلقًا ہر حال میں فاسد نماز نہیں ہوتا ،مطلقًا کا مطلب یہ ہے کہ نہ لقمہ دینے والے کی نماز ٹوٹتی ہے اور نہ لینے والے کی اور ہر حال میں اسکا مطلب یہ ہے کہ برابر ہے امام اس قدر بڑھ چکا ہو جس سے نماز درست ہوتی ہے یا نہ پڑھ چکا ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع