30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آفریدہ است حقیقۃ ہیچ حرف مشابہ با ونیست فرض قطعی آنست کہ مخرجش آموز وطرز ادایش یا دگیردو قصد حرف منزل من اﷲ کند واز پیش خویش نہ ظا خواند نہ دال کہ ہر دومباین اوست و شبانہ روز سعی موفور بجائے آورد تا آنکہ می کو شد چہ برآید روا باشد لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ١[1] فامااگر برصحیح قادر نہ شود امامت صحیح نتواں کرد درفتاوٰی خیریہ است امامۃ الثغ با تفصیح فاسدہ فی الراجح الصحیح[2] وبراد فرض باشد کہ تاپس صحیح خواند نماز تواں یافت تنہا نہ گزارد کہ دراقتدا ازقرأت بے نیاز باشد وآنکہ مخرج نیا موخت یا درصحیح او سعی نہ کرد اگر از زبالش ظا یا دال ادا شود ہرچہ بافساد معنی شود نماز فاسد شود ورنہ نے واگر بہر دو فساد نعنی رونماید چنانکہ مغظوب و مغذوب بہر دوفاسد شودایں ہم آنگاہ ہست کہ قصد حرف منزل من اﷲ کند وزبان یادری نہ دہد ظا یا دال اداشود چنانکہ صورت اخیرہ درعوام ہند و بنگالہ است واگربالقصد بجائے او حرفے دیگر نشاندن خواہد حکم او سخت تر شود زیرا کہ تبدیل کلام اﷲ میکند چنانکہ بعض نامقلدان تصریح کردہ اند کہ ضادنتواں ظا خواند امام اجل ابوبکرمحمد بن الفضل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ دریں صورت حکم کفر فرمودہ است کما فی منح الروض الازہر ومارادریں مسئلہ رسالہ ایست مختصرہ جامعہ الجام الصاد عن سنن الضاد آنجا ایں را رنگ تفصیل |
تمام حروف سے جُدا پیدا فرمایا ہے حقیقی طور پر کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں اس لئے فرض قطی یہ ہے کہ اس کا مخرج سیکھا(جانا) جائے ،اس کی ادائیگی کا طریقہ یاد کیا جائے اور اس حرف کا ارادہ کیا جائے جو اﷲ کی طرف سے نازل ہے ، اپنی طرف سے نہ اسے ظا پڑھا جائے اور نہ ہی دال ،کیونکہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں شبانہ روز کی محنت و کوشش کے بعد جو پڑھا جاسکے وہ درست ہوگا کیونکہ اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگراس کی طاقت بھر ۔اگر حرف کی صحیح ادائیگی پر قادر نہ ہوا تو اس کو امامت کرانا درست نہیں ، فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ توتلے کا فصیح کی امامت کرنا راجح اور صحیح مذہب میں فاسد ہے اور ایسے شخص پر فرض ہے کہ وہ کسی صحیح کی اقتداء میں نماز ادا کرے اگر اقتداء ممکن ہو تنہا نہ پڑھے کیونکہ اقتداء کی صورت میں وہ قرأت سے بے نیاز ہوجائے گا ،اور وہ شخص جس نے ض کا مخرج نہ سیکھا یا اس کی صحت کے لئے کوشش نہ کی ہو اگر اس کی زبان سے ضاد کی جگہ ظا یا دال ادا ہو جس کے ساتھ فسادِ معنی ہوگا اس سے نماز بھی فاسد گی اور جس کے ساتھ فساد معنٰی نہ ہوگا تو اس سے نماز ہوجائیگی اور اگر دونوں صورتوں میں فساد معنی ہو مثلًا مغظوب اور مغدوب تو دونوں صورتوں میں نماز فاسد ہوگی۔یہ تمام اس وقت ہے جب اس سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع