30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الزیادۃ علی القرأۃ المسنونۃ فانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی عنہ وکانت قرأتہ ھی المسنونۃ فلا بد من کون مانھی عنہ غیر ماکان دابہ الالضرورۃ١[1] اھ وباقی ماذکرنا من المسائل معرفۃ فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الکتب المتداولۃ فلا حاجۃ بایراد العبارات۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
میں طوالت وہ زیادتی ہے جو قرأت مسنونہ پر ہو، کیونکہ آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسی ہی زیادتی سے منع فرمایا ہے اور آپ کی قرأت قرأۃ مسنونہ ہی تھی لہذا جس سے آپ نے روکا وہ اس مسنو نہ کے علاوہ ہوئی مگر ضرورت کے وقت اھ اور دیگر مسائل جو ہم نے ذکر کئے وہ درمختار ،ردالمحتار اور دیگر متداول کتب میں معروف ہیں اس لئے تمام عبارات کے تذکرے کی ضرورت نہیں (ت) |
مسئلہ نمبر٤٨١: ٢٧شوال ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے نماز میں بعد الحمدﷲ اور تین یا زائد آیتوں کے کہا قال رسول اﷲ پھر رکوع کردیا یا قرآن مجید اور تلاوت کی تو اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں؟ اور سجدہ سہو حاجت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر اس لفظ سے اُس نے کسی شخص کی بات کا جواب دینے کا قصد کیامثلًا کسی نے پوچھا فلاں حدیث کس طرح ہے اُس نے کہا قال رسول اﷲ اورمعًا نماز کا خیال آگیا خاموش ہو رہا یا ابتداءً کسی سے خطاب کا ارادہ کیا مثلًا کسی کو کوئی فعلِ ممنوع کرتے دیکھا اسے حدیثِ ممانعت سنانی چاہی اس کے خطاب کی نیت سے کہا قال رسول اﷲ پھریاد آگیا آگے نہ کہا تو ان دو٢ صورتوں میں ضرور نماز فاسد ہوجائیگی ۔
|
کما نصواعلیہ فیماھو ذکر و ثنا محض کلا الٰہ الااﷲ ولا حول ولاقوۃ الّا باﷲ وانا الیہ راجعون و غیرذلك اذا قصد بہ الجواب اوالخطاب فکیف ما لیس کذلک۔ |
جیسے کہ فقہاء نے ان الفاظ کے بارے میں تصریح کی ہے جو کہ فقط ذکر و ثناء ہی ہیں مثلًا لا الٰہ الا اﷲ ، لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اور انّا ﷲ وانا الیہ راجعون اور دیگر کلمات جب ان سے مقصد کسی کا جواب یا کسی کو خطاب ہو تو ان کلمات کا کیا حال ہوگا جو محض ذکر و ثنا نہیں (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع