30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤااور دوسری رکعت میں ٢٩ پارہ کا آخری رکوع"اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ ظِلٰلٍ"پڑھا اس سے زیادہ پڑھنے پر مقتدی نہایت شاکی ہوئے ،اور ایك مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ امام گنہگار ہوتے ہیں اتنا بڑا رکوع پڑھنے سے ایسی صورت اور ایسے وقت میں نہیں چاہئے منع آیا ہے،پست ہمّت مقتدیوں کی شکایت شرعًا جائز ہے یا نہیں؟ اورامام صاحب پر شرعًا کیا الزام اور گناہ ہے؟ سو آدمی کی جماعت میں دومقتدی علیل پیرانہ سالی کی وجہ سے زیادہ شکایت اور امام کو بُرا جانیں وہ بھی الزام دینے سے گناہگار ہیں یا نہیں؟
الجواب:
نمازِحضر یعنی غیر سفر میں ہمارے ائمہ سے تین روایتیں ہیں:
اوّل: فجر و ظہر میں طوال مفصل سے دو سورتیں پوری پڑھے ہر رکعت میں ایك سورت اور عصر و عشاء میں اوساطِ مفصل سے دو سورتیں اور مغرب میں قصار مفصل سے۔مفصل قرآن کریم کے اس حصہ کو کہتے ہیں جو سورہ حجرات سےاخیر تك ہے اس کے تین حصے ہیں حجرات سے بروج تك طوال ،بروج سے لم یکن تك اوساط ،لم یکن سے ناس تك قصار
دوم: فجر و ظہر میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دونوں رکعت کی مجموع قرأت چالیس پچاس آیت ہے اور ایك روایت میں ساٹھ آیت سے سوَ تك ۔اور عصر وعشاء کی دونوں رکعت کا مجموعہ پندرہ بیس آیت ،اور مغرب میں مجموعہ دس آیتیں ۔
سوم: کچھ مقرر نہ رکھے جہاں وقت و مقتدیان و امام کی حالت کا مقتضی ہو ویسا پڑھے، مثلًا نمازِفجر میں اگر وقت تنگ ہو یا مقتدیوں میں کوئی شخص بیمار ہے کہ بقدر سنّت پڑھنا اس پر گراں گزرے گا یا بوڑھا ضعیف ناتواں یا کسی ضرورت والا ہے کہ دیر لگانے میں اُس کاکام حرج ہوتا ہے اُسے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوگا توجہاں تك تخفیف کی حاجت سمجھے تخفیف کرے، خودحضو اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نمازِ فجر میں ایك بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیال رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طولِ قرأت سے اُدھر بچہ پھڑکے گا اِدھر ماں کا دل بیچین ہوگا صرف قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ بربّ الناس سے نماز پڑھا دی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ وبارك وسلم اجمعین، اور اگر دیکھے کہ وقت میں وسعت ہے اور نہ کوئی مقتدیوں میں بیمار نہ ویسا کامی تو بقدر سنّت قرأت ان روایات میں پہلی اور تیسری روایت مختار و معمول بہ ہے وانا اقول لاخلاف بینھما وانما الثالثۃ تقیید الاولی کما لا یخفی (میری رائے میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تعارض نہیں تیسری پہلی کو مقید کررہی ہے جیسا کہ واضح ہے۔ت) تو حاصل مذہب معتمدیہ قرار پایا کہ جب گنجائش بوجہ وقت خواہ بیماری وضعف وحاجت مقتدیان کم دیکھے تو قدرِ گنجائش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع