30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شروع تلفّظ کے وقت موجود ہو اُنھیں کی آواز سے بھر جاتی ہے اور جب تك اُس کا تلفّظ ختم ہو دوسری نہیں آتی جیسے ز ز ز ظ ظ ظ یونہی ضضض یہ امر قوت اعتماد کولازم ہے کہ دہن یا حلق کے کسی حصے پر اعتماد قوی بے آواز بھی حابس دم ہے کما لا یخفی جب اس جگہ سے اس طور پر حرف نکلے گا تو وہ ض ہی ہوگا نہ اس کا غیر ۔فرق جو پڑتا ہے اُس کا منشا انھیں سے کسی بات کا رہ جانا ہے مثلًا زبان اگلے دانتوں کو لگی یا زبان کی نوك سے کام لیا کہ وہ آغاز مخرج لام کی طرف جھکی ۔پہلوئے زبان کا وسط داڑھوں کی جانب خلاف کو چلا حالانکہ اُن کی طرف میل درکار تھا یا زبان تالو کی طرف نہ اُٹھائی یا اُٹھانا چاہی مگر حرف کی دشواری و غرابت آڑے آئی کہ زبان دب گئی کما ینبغی اطباق نہ ہُوا جس طرح لڑائی میں ناتجربہ کار کا ہاتھ باوصف قصد جھجك کر اوچھا پڑتا ہے یا اعتماد میں ضعف رہا یا مخرج لام تك استطالہ نہ ہُوا یہ بیان دکہ آدمی صرف منزل من اﷲ ہی کا کا خیال کرکے پر لکھنے اور عمل میں رکھنے کا ہے کہ ان شاء اﷲ تعالٰی صحت ادا میں بہت مددگار ہے وباﷲ التوفیق۔اب بعد اس کے اسکا مخرج و طریقہ استعمال جان بھی لے ادا کرنے والے مشابہت د سے تو اس تقریر آخری کا خیال کرکے بچ سکتے ہیں اور اگر آدمی تا آخر جو کچھ ہم نے محررہ صفات مین بیان کیا اُس سب کے مراعات ٹھیك طور پر ہوجائے تو یقینا اب جو حروف نکلے گا وہ خالص صحیح و فصیح ض ہوگااگر چہ ناواقف سننے والا اپنی ناشنائی کے باعث اسے کچھ سمجھے یا کچھ نہ سمجھے اور بقدر قدرت اُس کے برتنے میں کمی بھی نہ کرے تو اب جو کچھ بھی ادا ہوگا صحتِ نماز کا فتوٰی دیں گے کہ عسر متحقق ہولیا اور عذر واضح ہوچکا اور عسر جانب یسر ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ١[1] وقال اﷲ تعالٰی یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْرَ۫[2] وقال اﷲ تعالٰی وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ[3] وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسروا ولا تعسروا بشروا ولا تنفروا[4] رواہ الشیخان عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے اﷲ تعالٰی کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ دوسرا فرمان ہے اﷲ تعالٰی تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا ۔تیسرے مقام پر فرمایا اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے آسانی پیدا کرو ،مشکل میں نہ ڈالو ، محبتیں پیدا کرو ،نفرت نہ دلاؤ۔اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع