30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علی المعنی کانام ہے اور نظم یہ حروف بہ ترتیب معروف اور باہم متبائن اور تبدیل جز مستلزم تبدیل کل فان المولف من مبائن مبائن للمولف من مبائن اٰخر( ایك مبائن حروف کا مجموعہ دوسرے مبائن حروف کے مجموعے کے مبائن ہوتا ہے۔ت) میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل قصدی و تحریف کلام اﷲ میں کیا تفاوت مانا جائے گا۔یہی منشا ہے امام فضلی و امام محمود وعلامہ قاری وغیر ہم کے اُس حکم کا جو قرآن مجید میں ض عمدًاظ سے بدلے کافر ہے۔
|
اقول: ولا حاجۃ الی استثناء وما ھو علی الغیب بضنین ،فان ھھنا لیس اقامۃ الظاء مقام الضاد لان المکان لیس مکانھا خاصۃ بل مکانھما جمیعا علی التوارد حیث قرئ بھما فی القرآن فکان مثل صراط و سراط وبسطۃ و بصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلك بخلاف مغضوب مغظوب وبخلاف سجیل وصجیل فانہ تبدیل۔ |
اقول: میری رائے یہ ہے کہ وماھو علی الغیب بضنین کومستثنٰی کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہاں ظاء کو ضاد کی جگہ رکھنا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ صرف ضاد ہی کا مقام نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے دونوں کی جگہ ہے کیونکہ ان دونوں حروف کے ساتھ قرأتِ قرآنی ثابت ہے جیسے صراط اور سراط،بسطۃ اور بصطۃ،یبسط اور یبصط، مصیطر اور مسیطر اور ان کے ہم مثل دیگر الفاظ ، بخلاف مغضوب اور مغظوب کے اور بخلاف سجیل اور صجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔ (ت) |
پس جزمًا لازم کہ ہر حرف میں خاص حرف منزل من اﷲ ہی کا قصد کریں اور اسی کے مخرج سے اسے نکالنا چاہئے ۔
مخرج ضاد زبان کی دہنی یا بائیں کروٹ ہے یوُں کہ اکثر پہلوئے زبان حلق سے نوك کے قریب تك اسی جانب کی اُن بالائی داڑھوں کے طرف جو وسط زبان کے محاذی ہیں قریب ملاصق ہوتا ہوا کچیلوں کی طرف دراز ہو یہاں تك کہ شروع مخرج لام تك بڑھے زبان کی کروٹ داڑھوں سے متصل ہوتی باقی زبان اس حرکت میں اوپر کو میل کرکے تالوُ سے نزدیکی پائے دانتوں یازبان کی نوك کا اُس میں کچھ حصہ نہیں وہ ان قوی حرفوں میں ہے جو ادا ہوتے وقت اپنے مخرج پر اعتماد قوی مانگتے ہیں جس قدر سانس ان کی آواز میں سینے سے باہر آتی ہے سب کو اپنی کیفیت میں رنگ لیتے ہیں کہ کوئی پارہ سانس کا اُن کے ساتھ جُدا چلتا معلوم نہیں ہوتا جب تك ان کی آوازختم نہ ہولے سانس بند رہے گی ایسے حرفوں کو مجہورہ کہتے ہیں اور ان کے خلاف کو مہموسہ جن کا جامع فَحثَّہ شَخْصُ سَلَتَ ہے یا سَتَشْحَثُك خَصْفَہ ْمثلًا ثائے مثلثہ کو مکرر کرکے بولے ثلث تو آواز ثاکے ساتھ ایك حصہ ساکن کاجُدا معلوم ہوگا نفس بند نہ ہوا مجہورہ میں ایسا نہیں بلکہ تمام سانس جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع