30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحروف حقوقھا ورد الحرف الی مخرجہ واصلہ ولا شك ان الامۃ کما ھم متعبدون بفھم معانی القراٰن واقامۃ حدودہ ھم متعبدون بتصحیح الفاظہ واقامۃ حروفہ علی الصفۃ المتلقاۃ من ائمۃ القرأۃ المتصلۃ بالحضرۃ النبویۃ وقد عد العلماء القرأۃ بغیر تجوید لحنا[1] ملخصا۔ |
انکے حقوق دینا اور ہرحرف کو اسکے مخرج اور اصل کی طرف لوٹانا ہے، بلاشبہ امت مسلمہ جس طرح معانی قرآن کے فہم اور حدود قرآنی کے نفاذ میں پابند ہے اسی طرح وہ قرآن کے الفاظ کی تصحیح اور انہیں اسی طریقہ وصف پر ادا کرنے کی بھی پابند ہے جس طرح ان کو قرأت کے ائمہ نے ادا کیا جس کا سلسلہ سند نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك متصل ہے اورعلما نے بغیر تجوید کے قرآن پڑھنے کو لحن قرار دیا ہے ملخصًا(ت) |
دیکھو کیسی تصریح ہے کہ علمائے
کرام قرأت بے تجوید کو لحن بتاتے ہیں اور احسن الفتاوٰی فتاوٰی بزازیہ میں فرمایا:
ان اللحن حرام بلا خلاف[2]لحن سب کے نزدیك حرام ہے۔ ولہذا ائمہ دین تصریح
فرماتے ہیں کہ آدمی سے کوئی حرف غلط ادا ہوتا ہے تو اس کی تصحیح وتعلم میں اُس پر
کوشش واجب ،اگرکوشش نہ کرے گا معذور نہ رکھیں گے اورنماز نہ ہوگی ،بلکہ جمہور علما
نے اس سعی کی کوئی حد مقررنہ کی اور حکم دیا کہ تاعمر شبانہ روز ہمیشہ جہد کئے
جائے کبھی اس کے ترك میں معذور نہ ہوگا ،یہی قول امام ابراہیم ابن یوسف وامام حسین
بن مطیع کا ہےمحیط میں اسی کو مختارالفتوٰی فرمایا ،خانیہ وخلاصہ وفتح القدیر
ومراقی الفلاح وفتاوی الحجۃ و جامع الرموز و درمختار و ردالمحتاروغیرہا میں اسی
پرجزم کیا ، علامہ ابن الشحنہ نے اسی کو محرر بتایا،علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں
اسی کو معتمد فرمایا،اگرچہ امام برہان محمود نے ذخیرہ میں اس کو مشکل بتایا،امام
بن الحاج نے اسی پر تعویل کی ،علّامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں اسی طرف
میل کیا کما بیناکل ذلك فی فتاوٰنا(جیسا کہ یہ سارے کا سارا ہمارے فتاوٰی میں بیان
کیا گیا ہے ۔ت) تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزل من القرآن
کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عمدا اسے متروك و مہجور اور اپنی طرف سے دوسرا حرف اس کی
جگہ قائم کردیں ھذا
مما لایبیحہ شرع ولا دین والعیاذ باﷲ رب العالمین(شریعت اور دین اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتے اﷲ تعالٰی
کی پناہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ت)فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالٰی لہ بعد اس
کے عرش تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن نظم و معنی جمیعا بلکہ نظم دال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع