دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 6 | فتاوی رضویہ جلد ۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۶

حروف ہونا تو ظاہر ادا نہ ہوسکنے میں وُہ علما اور یہ جہلا برابرمگر فرق یہ ہے کہ ہمارے عوام نے معاذاﷲ  کلام اﷲ  وتحریف حرف منزل من اﷲ  کا قصد نہ کیا ، وہ یہی چاہتے ہیں کہ جو حرف یہاں اﷲ  عزّو جل نے اتارا ہے اسی کو پڑھیں اُسی کا ارادہ کرتے اُسی کی نیّت رکھتے اور اپنے زعم میں یہی سمجھتے کہ یہ حرف جہاں تك ہم سے ادا ہوسکتا ہے اس کی یہی آواز ہے۔مگر علمائے وہابیہ کو کہاں تاب کہ عجز و جہل کے طعنے سمجھیں ، دقّتوں دشواریوں کی کشاکش میں رہیں وہاں تو مذہب کی بنا ہی آرام پروری ہے۔تراویح کی آٹھ ، وتر کی ایك رکعت میں قسمت سے انھیں اوروں کے قو ل مل گئے ورنہ اصل مقصود ہی آرامِ نفس ہے۔ جاڑا لگتا ہے تیمم کرلو ، جماع میں انزال نہ ہو غسل نہ کرو، سال دو سال عورت کی خبر نہ آئے عورت کا نکاح کردو ،تین طلاقیں ایك جلسہ میں کہیں بے حلالہ سمجھو، چھ چیز کے سوا سب میں سود روا ،خون ومردار وغیرہ دو ایك چیزیں ناپاک،باقی تمام اشیاء حتی کہ شراب بھی طاہر ۔بے باك رفع ضرورت کو زنا سے خود اپنی بیٹی رضاعی، بھتیجی، سوتیلی خالہ سب حلال بلکہ سگی پھوپھی کے لئے بھی یہی خیال ۔انتہائے آرام طلبی یہ کہ وضو میں سر سے عمامہ دشوار اوپر ہی سے مسح کرلو، مولٰی سبحٰنہ تعالٰی نے وَامْسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمْفرمایا تم بعمامتکم سمجھو، وہ تو وہ مشکل یہ ہے کہ ہاتھوں کے لئے حکمِ غسل آیا اور ان کے دھونے سے آستین دھونا دشوار تر کہ پہنچے بھی بھیگے اور کپڑا بھی تر، ورنہ انہیں ایدیکم کی جگہ آستینکم بنالینا کیا دشوارتھا ،یہاں ایك غیر مقلد صاحب کا قول تھا صاحبو تم نے تہجد میں آپ دشواریاں لگالی ہیں ہماری تو جاڑے میں جب آنکھ کُھلی تکیے پر ہاتھ مار کر منہ پر پھیر لئے اور چارپائی پر بیٹھے بیٹھے دو٢ رکعتیں پڑھیں اور لحاف میں دُبك رہے۔مسلمانو کریمہ"لم تجد واماء"کے معنی سمجھے یعنی جب چارپائی پر رکھا ہوا گھڑا نہ ملے تو تکیہ پر ہاتھ مار لو اگر چہ نام کو مٹی نہ غبار، نہ تکیہ دار کو مرض نہ آزار، ولا حول ولا قوۃ الّا باﷲ  الواحد القہار۔یوں بھی جبکہ وہ قصدی تحریف ہے اور یہ عجز یا جہل یا خطا کی تصحیف ،تو وہی احق بالانکار ہے اور عوام کا ان کے علماء سے اعلم ہونا واضح آشکار ، اصل اس قدر ہے،آگے افراط وتفریط واجب الحذر ۔ یہ جواب امور مسئولہ ہے اور اس مسئلہ خاص میں حق تحقیق حقیق بالقبول و عطر تنقیح اکابر فحول یہ ہے کہ مولٰی عزوجل وتبارك و تعالٰی نے قرآنِ عظیم اتارا اور ہمیں بحمداﷲ  اس کے نظم و معنی دونوں سے متعبد کیا ہر مسلمان پر حق ہے کہ اُسے جیسا اترا ویسا ہی اداکرے، حرف کی آواز بدلنے میں بیشمار جگہ الفاظ مہمل رہتے یا معنی کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں یہاں تك کہ معاذاﷲ  کفر واسلام کا فرق ہوجاتا ،آواز صحیح سے جو معنی تھے ایمان تھے اور بدلنے پر جو پیدا ہوئے ان کا اعتقاد صریح کفر تو معاذاﷲ  وہ کلام اﷲ  کیونکر ہوا،آجکل یہاں عوام بلکہ کثیر بلکہ اکثر خواص نے اس امر خطیر میں مداہنت و بے پروائی اپنا شعار کرلی فقیر نے بگوشِ خود مولوی صاحبوں ، اصحابِ وعظ ودرس وفتوٰی کو خاص پنچایت میں برملا پڑھتے سنا قل ھو اﷲ  اھد حالانکہ ہرگز نہ اﷲ  نے اھد فرمایا نہ امینِ وحی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اھد پہنچایانہ صاحب قرآن صلی اﷲ  تعالٰی علیہ وسلم نے اھد پڑھایا پھر یہ قرآن کیونکر ہوا،احد کے معنی ایك اکیلا


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن