30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفی التاتار خانیۃ عن الحاوی حکی عن الصفار انہ کان یقول الخطاء اذا دخل فی الحروف لایفسد لان فیہ بلوی عامۃ الناس لانھم لایقیمون الحروف الابمشقۃ اھ وفیھا اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الاان فیہ بلوی العامۃ لا تفسد عند بعض المشائخ [1] اھ مختصرا وقد مر تمامہ ۔ |
تاتار خانیہ میں حاوی سے منقول ہے کہ امام صفار کہا کرتے تھے کہ حروف میں خطا ہوجائے تو نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ اس میں عوام الناس کو شدید ضرورت ہے کیونکہ وہ مشقت کے بغیر ان حروف کو ادا نہیں کرسکتے اھ، اسی میں ہے جب دوحرفوں کے درمیان اتحاد مخرج اور قرب مخرج نہ ہو البتہ اس میں عموم بلوی ہو تو بعض مشائخ کے ہاں نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا اور تمام عبارت پیچھے گزر چکی ہے۔(ت) |
حلیہ میں ہے:
|
قال بعضھم لاتفسد منھم ابوالقاسم الصفار ومحمد بن وسلمۃ وکثیر من المشائخ افتوابہ لعموم البلوی فان العوام لا یعرفون مخارج الحروف [2]۔ |
بعض علماء نے کہا کہ نماز فاسد نہیں ہوگی ،انہی میں شیخ ابوالقاسم الصفار اورمحمد بن سلمہ ہیں،اور کثیر مشائخ نے ضروریاتِ عامہ کی بنا پر اسی پرفتوٰی دیا ہے کیونکہ عوام مخارج حروف سے واقفیت نہیں رکھتے۔(ت) |
ا س قول پر تو صراحۃً عکس مراد ہوتا تھا۔ یہاں ظ خاص طائفہ قلیلہ ذلیلہ وہابیہ پڑھتے ہیں اور د یا مشابہ د میں عام ابتلا خود انہیں فتووں سے سائل نے نقل کیاکہ ایك بلا عام اس زمانے میں یہ ہوگئی ہے کہ ض کو بصورت د پڑھتے ہیں اب تو لازم تھا کہ ان ظائیوں ندویوں کے بھائیوں کی نماز فاسد کرتے اور عامہ عوام کی نماز صحیح الحمد ﷲ تلك عشرۃ کاملۃ وقدبقی خبایافی زاویا لو لا ان السائل اوصی بالاجمال لاتینابھا(تمام تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے ہے یہ دس١٠ کامل دلائل مکمل ہیں، ابھی کچھ دلائل خفا کے گوشے میں رہ گئے ہیں اگر سائل نے اجمالًا لکھنے کا نہ کہا ہوتا توہم ان کا بھی تذکرہ کردیتے ۔ت) یہاں تك ان فتووں کی حالتیں ظاہر ہو گئیں اور یہ بھی کہ وہ اس طائفہ حادثہ کو مفید اصلًا نہیں ،امور مسئولہ میں صرف اس کا جواب رہا کہ یہ نزاع خاص اس حرف میں کیوں ہے جہل اور عوام اہلسنت کے جہلا کا علم ض کا دشوار ترین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع