30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یسعہ ان یترك فی باقی عمرہ اھ مختصرا[1]۔ |
کہ یہ عمل عجزًا ہو مثلًا الحمدﷲ ، الرحمٰن الرحیم میں "ھا"کے ساتھ ،اعوذ میں دال کے ساتھ اور الصمدمیں سین کے ساتھ پڑھتا ہے،اس صورت میں اگر اس نے تصحیح کے لئے شب وروز محنت کی اور قادر نہ ہوسکا تو اسکی نماز درست ہوگی اور جدو جہد ترك کردی تو نماز فاسد ہوگی اور اس کے لئے باقی عمر میں جدوجہد ترك کرنے کی گنجائش نہیں۔اھ اختصارًا(ت) |
دیکھو خطا و عجز کو صاف دو صورتیں متقابل قرار دیا اور وہ فرق مشقت کا قول صرف صورت خطا میں ذکر کیا صورتِ عجز میں اس تفرقے کا اصلًا نام نہ لیا بلکہ س و ص ود و ذ کی مثالوں سے صرف متشابہ الصوت و غیر متشابہ دونوں کا یکساں حکم ہونا صراحۃً ظاہر فرما دیا تو بحالت عجز مغضوب مغذوب بلکہ بالفرض مغکوب مغموب سب کو قطعًا ایك حکم شامل اور حرف و دو حرف کا فرق باطل۔
نہم: مانا کہ نہ ظاء طائفہ جدیدہ کی قصدیت پر نظر ہوئی نہ دال عوام پر نہ اقوالِ علماء میں فرق عجز و خطا وغیرہ پر اور باتباع بعض علمائے متاخرین ارشاد اقدس اصل ائمہ مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہم مصحح ومختار جمہور محققین بھی پسند نہ آیا ،یہ سب مسلّم مگر متاخرین کا صرف ایك ہی قول تفرقہ مشقت نہ تھا متعدد اقوال تھے ازانجملہ امام قاضی ابوعاصم و امام محمد ابن مقاتل و امام اسمٰعیل زاہد وغیرہم اکابراماجد کا قول بہت قوّت تھا جس پر امام زاہد نے فتوٰی دیا،امام محسن و صاحبِ خزانۃ الاکمل نے احسن کہا،خزانۃ الفتاوٰی وحلیہ وغیرہما میں مختار بتایا،وجیز کردری و ہندیہ وغیرہما میں اعتدال الاقاویل فرمایا کہ یہ سب عبارات زیرِ امر چہارم گزریں یعنی اگر خطاءً ایك حرف کی جگہ دوسرا زبان سے نکل گیا یا تمیز نہیں جانتا تو نماز فاسد نہیں، اس قول میں مشقت وغیرہ کا کچھ تفرقہ نہ تھا صرف خطاءً یا عدم تمیز پر حکم ہے اس تقدیر پر واجب تھا کہ ظ و د کا ایك حال ہو اور بحال عدم تعمد صحت نماز پر فتوٰی دیا جائے کون سی فقہی نظر موجب ہوئی کہ قولِ متاخرین ہی لینا تھا تو یہ قول جلیل نہ لیا جائے حالانکہ اس کی قوت جلیلہ ،شانے دارد،پھر جس مصلحت کے لئے قول ائمہ متقدمین سے عدول ہوا یعنی عوام پرآسانی ، وہ بھی اسی میں اتم وازید ، ہاں اگر منظور ہی یہ ہو کہ وہابیہ غیر مقلدین ندوی کے برادران معظمین کی نماز میں درستی پائیں اور عوام اہلسنت کی نمازیں برباد ہوجائیں،اس لئے وہ قول تفرقہ اختیار کیا تو اختیار ہے۔
دہم: بلکہ یہاں ایك اور قول باقوّت تھا جسے امام ابوالقاسم صفار و امام محمد سلمہ وغیرہما اجلّہ ائمہ نے اختیار فرمایا اور بہت مشائخ نے اُس پر فتوی دیا کہ نظر عموم بلوی پر ہے جہاں ابتلائے عام ہو صحت پر فتوٰی دیں گے اسی شامی میں یہیں تھا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع