30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان سے زیادہ ہمزہ و ق کی آوازوں کا تباین ہے مگر علامہ شامی فرماتے ہیں ہمارے زمانے کے عوام پر اُن میں تمیز کمال مشکل ہے۔ردالمحتار میں ہے:
|
فی التتار خانیۃ اذالم یکن بین الحرفین اتحاد المخرج ولاقربہ الا انہ فیہ بلوی العامۃ کالذال مکان الصاد والظاء مکان الضاد لاتفسد عند بعض المشائخ اھ قلت فینبغی علی ھذا عدم الفساد فی ابدال القاف ھمزۃ کما ھو لغۃ عوام زماننا فانھم لا یمیزون بینھما ویصعب علیھم جدا کالذال مع الزاء وھذا کلہ قول المتاخرین [1] اھ باختصار |
تتار خانیہ میں ہے جب دو حرفوں کے درمیان اتحادِ مخرج نہ ہو اور نہ ہی قرب مخرج ہو مگر اس صورت میں ضرورت عامہ ہو مثلًا صاد کی جگہ ذال یا ضاد کی جگہ ظاء پڑھا تو بعض مشائخ کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی اھ میں کہتاہوں اس بناء پر قاف کو ہمزہ کے ساتھ بدلنے میں جیسا کہ ہمارے زمانے کے عوام کی زبان ہے بھی فساد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ان دونوں کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتے جیسے ذال اور زاء کے درمیان فرق کرنا ان پر نہایت ہی دشوار و مشکل ہے،یہ تمام متاخرین کے قول پر ہے اھ باختصار(ت) |
ان عبارات سے واضح ہُوا کہ دشواری تمیز میں ہرقوم کے لئے اُس کاحال معتبر ہے۔ قرب مخرج یا تشابہ وغیرہ کچھ ضرور نہیں ،تو عوام ہند اگر ض و د میں تمیز پر قادر نہیں تو وہ اُن کے لئے اسی مشقت فصل کی فصل میں ہیں جس میں ض و ظ و ت ، ط کا شمار ہوا اب عبارت شامی منقولہ،فتوی ندوہ اور اس کے مثل تمام عبارات بحث سے محض بیگانہ بلکہ استناد کرنے والوں کے صریح خلاف مراد ہوں گی اور دالین پر بطور متاخرین حکمِ جواز دیا جائے گا اورقصدًا مغظوب پڑھنے والے پر باتفاق متقدمین و متاخرین حکم بطلانِ نماز۔
ہشتم: یہاں تك مدارك ابنائے عصر پر کلام تھا مگر جانِ برادر عربی عبارت میں"مِنْ ، عَلٰی ،فِیْ"کا ترجمہ سمجھ لینا اور بات ہے اور مقاصد و مراد ومرام علمائے اعلام تك رسائی او ر ؎
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
مشقت جس سے فتوی ندوہ نے استناد کیا اس بحث سوال سے اصلًا متعلق ہی نہیں علماء کا وہ قول صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع