30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پنجم: ضاد و دال میں فرق صفات کا ذکر لغو و فضول اور محل بحث سے یکسر معزول،متقد مین کا مسلك معلوم ہے کہ اُن کے یہاں تشابہ و عدم تشابہ پر اصلًا نظر نہیں اور متاخرین قرب مخرج یا عسر تمیز پر لحاظ کرتے ہیں صفات سے انہیں بھی بحث نہیں ،نہ صفات خواہی نہ خواہی آسانی تمیز کو مستلزم ،نہ اُن کا تشارك دشواری پر حاکم ط مہملہ دال مہملہ سے سوائے اطباق کے کچھ فرق نہیں اور فرق تمیز کی آسانی مبین اورتائے مثناۃ سے متعدد صفات میں تباین تام اور دشواری فصل منصوص اعلام ، ط مجہورہ ومستعلیہ مطبقہ قلقلہ ہے ادرت مہموسہ مستفلہ منضحہ بے قلقلہ خانیہ و خلاصہ و حلیہ وہندیہ و ردالمختاروغیرہا میں ہے:
|
ان کان لا یمکن الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ کالطاء مع التاء[1]۔الخ |
اگر دو٢ حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ ہو جیسے طاء اور تء الخ(ت) |
شرح جزریہ میں ہے:
|
قال الرمانی وغیرہ لولا الاطباق لصارت الطاء دالالانہ لیس بینھما فرق الا الاطباق۔[2] |
رمانی وغیرہ نے کہا کہ اگر اطباق نہ ہو تو طاء دال ہو جائے گی اس لئے کہ اطباق کے علاوہ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔(ت) |
ششم: فتوی ندوی کا قول کہ ضاد ودال دو حروف متغایرالمعنی عجیب ، الفاظ متغایر المعنی ہیں اگر مسمی مراد تو ان ك لئے معنی کہاں ،بھلا بتائیے تو کہ مجرد حرف ض کے کیا معنی ہوئے ،اور اگر اسماء مقصود یعنی حدود دال تو نہ دو حرف نہ اُن میں مقال ،شاید یہ کہنا چاہا اور کہنا نہ آیا کہ ض و د دو حرف جداگانہ ہیں، کسی کلمے میں اُن کاتغیر معنی کے لئے مستلزم تغایر، یہ معنی فی البطن اگر مقصود بھی ہوں تو اوّلًا اطلاق ممنوع ، ثانیًا ہر تغیر میں تغییر بحدِ فساد مدفوع ،دیکھو ضالین و دالین میں کس قدر تغایر معنی ہے مگر محقق حلبی نے تغیر نہ مانا وھذا ببداھتہ غنی عن ابانۃ (یہ بات بدیہی ہونے کی وجہ سے محتاج بیان نہیں۔ت)
ہفتم: دونوں حرفوں میں تغایر صوت ہر گز سب کے لئے سہولت تمییز کو مستلزم نہیں ح،خ کی آوازیں کتنی جدا ہیں مگر ترك کو ان میں تمیز سخت دشوار۔غنیہ میں ہے:
|
ذکر محمد بن الفضل فی فتاواہ ان الترك لایمکنہ اقامۃ الحاء الا بمشقۃ [3]الخ۔ |
محمد بن فضل نے اپنے فتاوٰی میں تحریر کیا کہ ترك لوگوں کے لئے حاء کی ادائیگی مشقت کے بغیر ممکن نہیں الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع