30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی لسانہ ولم یکن ممیزاوفی زعمہ انہ ادی الکلمۃ علی وجھھا لا تفسد و کذا روی عن محمد بن مقائل والشیخ الامام اسماعیل الزاہد [1]۔ |
اور وہ امتیازکرنےوالا نہ تھا اور اس کا گمان یہی تھا اس کلمہ کو صحیح طور پر ادا کیا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی،محمد بن مقائل اور شیخ اسمٰعیل الزاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔(ت) |
بزازیہ میں دربارہ مغظوب ذالین وظالین ہے:
|
قال القاضی ابوالمحسن والقاضی ابو عاصم ان تعمد فسد وان جری علی لسانہ اوکان لا یعرف التمیز لایفسد وھواعدل الاقاویل وھو المختار [2]۔ |
قاضی ابوالحسن اورقاضی ابو عاصم نے کہا کہ اگر ایسا عمدًا کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر زبان پر از خود اس طرح ہوگیا یا وہ امتیاز نہ کر سکتا تھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور یہ تمام اقوال میں معتدل ہے اور یہی مختار ہے۔(ت) |
اسی طرح ہندیہ میں اس سے منقول ۔
|
اقول: والظاھر ان ھذہ الاختیارات ترجع الی شق الجواز عند الخطأ اما الفساد عند العمد فینبغی الاتفاق علیہ کما تقدم ما یفیدہ عن الحلیۃ والتصریح بہ عن الطحطاوی وھومعنی استظھار الاکمل انہ مجمل ما فی جمیع الفتاوی کیف واذا جعلوا التعمد من الردۃ فما بقاء الصلٰوۃ ھذا واضح جدا۔ |
اقول :(میں کہتا ہوں ) ظاہر یہ ہے کہ تمام اختلافات میں مختار اقوال جواز کی طرف اسی صورت میں راجع ہوتے ہیں جب ایسا معاملہ خطاءً واقع ہو۔رہا معاملہ عمدًا کا تو اس صورت میں فساد نماز پر اتفاق ہے جیسا کہ حلیہ کے حوالے سے افادہ کے طور پر گزرا ۔اورطحطاوی کی تصریح گزری ،اور اکمل کا بطور استظہار کہنا کہ فتاوی جات کا اجمال یہی ہے ــ"کا معنی بھی یہی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ انہوں نے عمدًا ایسا کرنے سے ارتداد کا حکم لگایا تو نماز کے باقی رہنے کا کیا معنی! اوریہ نہایت ہی واضح ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع