30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی القراٰن وقرب المعنی ولوقرأبالذال المعجمۃ تفسد لبعد معناہ [1]ملتقطا۔ |
دونوں کا وجود قرآن میں ہے اور معنی بھی قریب ہی ہے اور اگر ذالین ذال کےساتھ پڑھا تو نماز فاسد ہوگی کیونکہ اس کے معنی میں بُعد ہے ملخصًا(ت) |
ثانی نے فرمایا:
|
فی فتاوی قاضی خان ان قرأغیرالمغضوب بالظاء اوبالدال المھملۃ لا تفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد [2]۔ |
فتاوٰی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیرالمغضوب کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نمازفاسد ہوجائے گی اور ولا الضالین کو ظاء یا دال کے ساتھ پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوجائے گی۔(ت) |
اب اس سے استناد کرنے والے دیکھیں کہ عبارت قاضی خان ان دونوں اکابر کی نقل پر اُن کے صریح مخالف و عکس مراد ہے،ندوے کا دارالافتاء اپنا مبلغ علم دکھائے ورنہ تحقیق بالغ وتنقیح بازغ کے لئے بحمداﷲ تعالٰی فقیر کا رسالہ نعم الزاد ہے۔
چہارم: ض و ط میں دشواری تمیز اس طائفہ حادثہ کا اصلًا مفید نہیں وہ ایك گروہِ متاخرین کے نزدیك ہنگام لغزش، و خطاسبیل آسانی ہے نہ کہ معاذاﷲ قصدًا بتبدیل کلام اﷲ کی دستاویز جو بالقصد مغضوب کی جگہ مغظوب، مغذوب، مغزوب پڑھے اُس کی نماز بلا شبہہ فاسد اور وہ پڑھنے والے مغضوب ومفسد،تو یہ سب فتوٰی اس کے حق میں بیکار و نامؤید ۔علامہ طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں۔
|
محل الاختلاف فی الخطأ والنسیان اما فی العمد فتفسد بہ مطلقا بالاتفاق اذا کان مما یفسد الصلاۃ اما اذکان ثناء فلا یفسد ولو تعمد ذلك افادہ ابن امیرالحاج[3]۔ |
محلِ اختلاف خطاء ونسیان کی صورت میں ہے،رہا عمدًا کا معاملہ تو اس صورت میں مطلقًا بالاتفاق نماز فاسد ہوگی بشرطیکہ وہ ایسی قرأت میں ہو جس سے نماز فاسد ہوسکتی ہو اور اگرایسا معاملہ ثناء میں ہوا تو نماز فاسدنہ ہوگی اگرچہ عمدًا ہوابن امیر الحاج نے اس طرح بیان کیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع