30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناف خارج گھٹنے داخل مگر جدا جدا اعضاء بیان کرنے میں یہ نفع ہے کہ ان میں ہر عضو کی چوتھائی پر احکام جاری ہیں،
مثلًا: ١۔ اگر ایك عضو کی چہارم کھل گئی اگر چہ اس کے بلا قصد ہی کھلی ہو اور اس نے ایسی حالت میں رکوع یا سجود یا کوئی رکن کامل ادا کیا تو نماز بالا تفاق جاتی رہی۔
٢۔ اگر صورت مذکورہ میں پورا رکن تو ادا نہ کیا مگر اتنی دیر گزر گئی جس میں تین بار سُبحان اﷲ کہہ لیتا تو بھی مذہب مختار پر جاتی رہی۔
٣۔ اگر نمازی نے بالقصد ایك عضو کی چہارم بلا ضرورت کھولی تو فورًا نماز جاتی رہی اگرچہ معًا چھپالے ، یہاں ادائے رکن یا اُس قدر دیر کی کچھ شرط نہیں۔
٤۔ اگر تکبیر تحریمہ اُسی حالت میں کہی کہ ایك عضو کی چہارم کھلی ہے تو نماز سرے سے منعقد ہی نہ ہو گی اگرچہ تین تسبیحوں کی دیر تك مکشوف نہ رہے۔
٥۔ ان سب صورتوں میں اگر ایك عضو کی چہارم سے کم ظاہر ہے تو نماز صحیح ہو جائے گی اگرچہ نیّت سے سلام تك انکشاف رہے اگرچہ بعض صورتوں میں گناہ و سوئے ادب بیشك ہے۔
٦۔ اگر ایك عضو دو٢ جگہ سے کھلا ہو مگر جمع کرنے سے اس عضو کی چوتھائی نہیں ہوتی تو نمازہو جائے گی اور چوتھائی ہو جائے تو بتفاصیل مذکورہ نہ ہوگی۔
٧۔ متعدد عضووں مثلًا دو٢ میں سے اگر کچھ کچھ حصّہ کھلا ہے تو سب جسم مکشوف ملانے سے ان دونوں میں جو چھوٹا عضو ہے اگر اس کی چوتھائی تك نہ پہنچے تو نماز صحیح ہے ورنہ بتفصیلِ سابق باطل مثلًا ران و زیرِ ناف سے کچھ کچھ کپڑا الگ ہے تو دونوں کی قدر منکشف اگر زیرِ ناف کی چہارم کو پہنچے نماز نہ ہوگی اگر چہ مجموعہ ران کی چوتھائی کو بھی نہ پہنچے کہ ان دونوں میں زیرِ ناف چھوٹا عضو ہے اور سرین اور زیرِ ناف میں انکشاف ہے تو مجموعہ سرین کے ربع تك پہنچناچاہیے اگر چہ زیرِ ناف کی چوتھائی نہ ہو کہ ان میں سرین عضو اصغر ہے اسی طرح تین یا چار یا زیادہ اعضا میں انکشاف ہو تو بھی اُن میں سب سے چھوٹے عضو کی چہارم تك پہنچنا کافی ہے اگرچہ اکبر یا اوسط یا خفیف حصّہ ہو۔
|
ھذا الصحیح الذی نص علیہ محمد فی الزیادات فلا علیك من بحث التبیین وان تبعہ الفتح والبحر واختارہ البرھان الحلبی فی الصغیر و تمام الکلام بتوفیق الملك العلام فی |
یہ وہ صحیح ہے جس پر امام محمد نے زیادات میں تصریح کی ہے، تجھے تبیین کی بحث کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہی نہیں اگر چہ فتح القدیر اور البحرالرائق نے اس کی اتباع کی، اور برہان حلبی نے اسے صغیر میں مختار قرار دیا، اﷲ تعالٰی مالك وعلام کی توفیق سے اس کی پوری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع