30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الفصل بین الحرفین الا بمشقۃ قال اکثرھم لاتفسد صلوتہ [1] اھ مختصرا |
دونوں حرفوں کے درمیان مشقت کے بغیر امتیاز ممکن نہ تھا تو اکثر علماء کا قول یہی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی اھ اختصارا۔(ت) |
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں فتاوٰی خانیہ سے منقول، ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
|
فی الخانیۃ والخلاصۃ انہ ان لم یتغیر المعنی جاز مطلقا وان تغیر المعنی فان لم یشق التمییز بین الحرفین فسدت عند الکل وان شق فاکثرھم لاتفسد[2]۔ |
خانیہ اورخلاصہ میں ہے اگر معنی میں تبدیلی نہیں آئی تو نماز (مطلقًا) ہر حال میں جائز ،اور اگرمعنی میں تبدیلی آجائے تو اب ان دونوں حروف کے درمیان امتیاز مشکل نہیں تو تمام کے نزدیك نماز فاسد ،اور اگر امتیاز میں مشقت ہے تو اکثر کے نزدیك فاسد نہ ہوگی۔(ت) |
سوم:قطع نظر اس سے کہ دال ومشابہ دال میں فرق بدیہی دعوٰی میں یہ تھا اور سند میں وہ۔اور قطع نظر اس سے عبارتِ خلاصہ میں اگر دال مہملہ ہے تو مستدل کے صریح خلاف،اور معجمہ ہے تو مہملہ کا ذکر اصلًا نہیں ،تو سند دعوٰی سے بے علاقہ صاف ، ہمیں عبارت قاضی خان سے بحث کرنی ہے جس سے فتوٰی ندوہ نے بھی استناد کیا اس عبارت میں دال و ذال کے صرف اسماء لکھے ہیں انھیں صفت مہملہ و معجمہ سے مقید نہ فرمایا اور نقول خصوصًا مطابع میں نقاط کا تغیر کوئی نئی بات نہیں مگر علامہ محقق ابرہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ اورعلامہ محقق مولانا علی قاری مکی نےمنح فکریہ مقدمہ جزریہ میں یہی عبارت قاضی خان بتصریح اہمال و اعجام نقل فرمائی جس میں صراحۃً مذکور کہ ضالین کی جگہ دالین بہ دال مہملہ پڑھے تو نماز نہ جائیگی اور ذالین بہ ذال معجمہ پڑھے تو جاتی رہے گی ، اول نے فرمایا ہے:
|
ھذا فصل وھو ابدال احد ھذہ الاحرف الثلٰثۃ اعنی الضاد والظاء والذال من غیرہ فلنور دماذکر ہ فی فتاوٰی قاضی خان من ھذہ القبیل قرأ ولا الضالین بالظاء المعجمۃ والدال المھملۃ لا تفسد لوجود لفظھما |
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان تین حروف یعنی ضاد،ظاء اور ذال کو کسی دوسرے حرف سے تبدیل کر کے پڑھنا اس سلسلہ میں فتاوٰی قاضی خان میں جو کچھ بیان ہوا اس کا عنقریب ہم تذکرہ کرتے ہیں اگر ضالین کی جگہ ظالین اعجاما یا دالین اہمالا پڑھا تو نمازفاسد نہ ہوگی کیونکہ ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع