30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی قاری چہرہ کشودحیث قال تحت قول الماتن والرا بتکریر جعل ،معنی قولھم ان الرا مکرر ھو ان الراء لہ قبول التکرار لار تعاد طرف اللسان بہ عند التلفظ کقولھم لغیر الضاحك انسان ضاحك یعنی انہ قابل للضحك وفی جعل اشارۃ الی ذلك ، وتکریرہ الحسن فیجب معرفۃ التحفظ عنہ للتحفظ بہ کمعرفۃ السحر لیتجنب عن تضررہ ولیعرف وجہ رفعہ قال الجعبری وطریقۃ السلامۃ انہ یلصق اللافظ ظھر لسانہ باعلی خنکہ لصقا محکما مرۃ واحدۃ ومتی ارتعد حدث من کل مرۃ راء وقال مکی لابد فی القرأۃ من اخفاء التکریر وقال واجب علی القاری ان یخفی تکریرہ ومتی اظھر فقد جعل من الحرف المشدد حروفا ومن الحرف المشدد حروفا ومن المخفف حرفین [1] اھ ببعض اختصار ودروجوب ادا ازمخرج برمعنی کہ مسلم است جملہ حروف متساویہ الاقدام است ہیچ خصوصیت ض رانیست بلکہ تواں گفت کہ چوں ادائے صادق در وا عسر |
مولانا علی قاری کے اس کلا م میں ظاہر ہوئی جو انہوں نے ماتن کے قول"والراء بتکریرجعل"کے تحت کی ہے کہ قراء کے قول"را میں تکرارہے"کا معنی یہ ہے کہ را تکرار کو قبول کرتا ہے کیونکہ اس کے تلفظ کے وقت طرفِ زبان حرکت کرتی ہے جیساکہ غیر ضاحك کو انسان ضاحك کہا جائے کہ وہ ضحك کے قابل ہے ،اس جعل میں اسی طرف اشارہ ہے اور اس کا تکرار غلط ہے،پس اس کےساتھ تلفظ کے لئے اس سے بچنے کی معرفت ضروری ہے تاکہ غلطی سے بچاجاسکے ،جیسا کہ جادُو کا علم اس لئے حاصل کیا جائے تاکہ اس کے نقصان سے بچاجائے اور اس سے دفاع کی معرفت ہوجائے اور اس کو اٹھایا جاسکے جعبری نے کہا سلامتی کا طریقہ یہ ہے کہ تلفظ کرنے والا اپنی زبان کے اوپر والے حصے کو تالو کے بلند حصے کے ساتھ ایك دفعہ مضبوط طریقہ سے ملائے اب جب وہ حرکت کرے گی تو ہر دفعہ ،را پیداہوگا مکی نے کہا ہے قرأت میں اخفاءِ تکریر ضزوری ہے اور فرما یا قاری پر لازم ہے کہ اس کے تکرار میں اخفاء کرے اور جب اظہار کرے گا تو حرفِ مشددہ میں کئی حروف پیدا کرے گا اور مخففہ میں دو حروف سے کرے اھ اھ یہ عبارت کچھ اختصار کے ساتھ ہے ہر حرف کو اس کے مخرج سے اس طرح ادا کرنے کا وجوب اس معنی پر ہے کہ تمام حروف کا متساوی الاقدام ہونا مسلم ہے اس میں ضاد ہی کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع