30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان العرب انما اخذوا ذلك من العجم لمخالتطھم ایاھم [1] باز اخراج ز معجمہ بجائے ض خالصًا یا اشمامًا در کلام علماء نقلش از عوام جہالی نیز بیادنیست البتہ بعض عامیاں زماں کہ تشابہ صورت شنیدہ اند بجائے ض ظ بر آور دن مے خواہند وبعض دیگر کہ تحفظ کنند و نتواں چیزے بین الضاد والظاء برمی آرند واولئك امثلھم طریقا نسأل اﷲ ان یرزقنا الحق فی کل باب تحقیقا۔ بالجملہ حق واضح ہمیں است کہ ایں ہمہ حروف باھم متبائن است و برہمہ مخرج جدا وابدال ضباہر حرفیکہ باشد مردود و ناروا ایں حرفے است کہ حق جل و علا او را تنہا آفرید وہیچ حرفے را قرینش نگر دانید و لہذا سیبو گفت ودر صفت لو لا الاطباق فی الصاد لکان سینا وفی الظاء |
پڑھتے تھے مونّث کو خطاب کرتے ہیں منك کہ جگہ منچ پڑھتے ہیں ،بعض دیگر ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے کہ جیم کو گاف کے ساتھ مثلًا مسگد، جمال کو گمال بولتے ہیں ۔رضی نے کہا وہ باء جو فاء کی طرح ہے سیرفی کہتا ہے یہ لغت عجم میں کثرت کے ساتھ مستعمل ہے اور میرا گمان ہے کہ عرب نے عجم سے اختلاط کی وجہ سے یہ اخذ کیا ہے پھر ضاد کی جگہ خالصًا یا اشمامًا زا پڑھنے کے بارے میں جاہل لوگوں نے علماء کے کلام سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بھی محفوظ نہیں البتہ جن بعض عوام زمان سے متشابہ صوت سُنا گیا ہے کہ وہ ض کی جگہ ظاء پڑھنا چاہتے ہیں اور بعض دوسرے لوگ ادائیگی کی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی کوشاں رہتے ہیں ضاد اور ظا کے درمیان پڑھتے ہیں یہ لوگ بہتر اور اوسط راہ پر ہیں،ہم اﷲ تعالٰی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر معاملہ تحقیقی حق پر چلنا نصیب کرے (آمین) بالجملہ: حق واضح یہی ہے کہ تمام حروف آپس میں متبائن اور ان کے مخارج الگ الگ ہیں لہذا ضاد کسی بھی حرف کے ساتھ بدل کر پڑھنا مردود اور ناجائز ہے۔ اس حرف(ضاد) کو اﷲ تعالٰی نے اتنا جدا پیدا کیا ہے کہ کوئی حرف بھی اسکا قریبی نہیں گردانا جاسکتا اسی لئے سیبویہ نے کہا اور خوب کہا اگر صاد میں اطباق نہ ہو تو سین بن جائے ،اگر ظاء میں نہ ہو تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع