30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من غاضہ اذا نقصہ قال الاسود بن یعفر ؎ اما ترینی قدفنیت وغاضنی ما نیل من بصری ومن اجلادی قال فی تاج العروس معناہ نقصنی بعد تمامی وھذا ابن الاعرابی قد انشد بنفسہ ؎ ولو قد عض معطسہ جریری لقد لانت عریکتہ وغاضا وفسرہ فقال اثرنی انفہ حتی یذل وقد قال ابن سیدہ فی ذلك البیت یجوز عندی ان یکون غائض غیر بدل ولکنہ من غاضہ ای نقصہ ویکون معناہ حینئذ انہ ینقصننی ویتھضمنی [1] نقلھافی التاج ایضا وعن ھذاحکم علماؤنابعدم الفساد فیما لو قرأ لیغیض بھم الکفار بالضاد مکان الظاء[2] کما فی الخانیۃ،قال فی الغنیۃ لان معناہ مناسب ای لینقص بھم الکفار ٣[3]اھ وکذاقال فی قولہ تعالٰی قُلْ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمْؕ[4] و |
میں ان کی حجت نہیں بن سکتا تو کبھی یہ غاضہ سے آتا ہے اس وقت اس کا معنی نقص ہوتا ہے چنانچہ اسود بن یعفرنے کہا کیا تُو دیکھتی نہیں کہ میں فنا ہوچکا ہوں اور میری آنکھوں اور اعضاء کے عوارض نے مجھے ناقص کر دیا ہے۔ تاج العروس میں ہے :اس کا معنی یہ ہے اس نے مجھے کمال تك پہنچنے کے بعد ناقص کردیا ،اور اس ابن اعرابی نے خو د یہ شعر کہا:اگر جریری نے اس کی ناك کو کاٹا ہے تو ضرور اس کی ناك ہڈی نرم اور ناقص ہوگی۔اور اسکی شرح کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس کی ناك کو داغدار کردیا حتٰی کہ وہ ذلیل ہو گیا۔اور ابن سیدہ نے اس(پہلے) شعر کے متعلق کہا کہ اس میں"غائض"غا،ظ،ط سے نہیں بدلا بلکہ وہ غاض سے ہے جس کا معنی نقص ہے، لہذا اب معنی یوں ہوگا اس نے مجھے ناقص کردیا ،اس کو تاج العروس نے بھی نقل کیا ہے ،اور اسی بناء پر ہمارے علماء نے فرمایا کہ اگر کسی نے لیغیظ بھم الکفار میں ظاء کی جگہ ضاد پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی ، جیسا کہ خانیہ میں ہے۔ غنیۃ میں ہے کہ اس کا معنی مناسب ہی رہتا ہے یعنی ان سے کافروں میں نقص و اضطراب ہو اھ او ر اسی طرح اﷲ تعالٰی کے ارشاد گرامی۔ قُلْ مُوۡتُوۡا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع