30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
آوردہ گفت قال الشارح وھذا معنی ماذکر فی فتاوی الحجۃ انہ یفتی فی حق الفقھاء باعادۃ الصلاۃ وفی حق العوام بالجواز اقول وھذا تفصیل حسن فی ھذا الباب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ۔ وفی فتاوٰی قاضیخان ان قرأغیر المغضوب بالظاء او بالدال تفسد صلاتہ ولا الضالین بالظاء المعجمۃ اوالدال المھملۃ لاتفسد ولو بالذال المعجمۃ تفسد (ملخصا)١[1] ۔ در شرح امام شیخ الاسلام زکریا انصاری است (وان تلاقیا) ای الضاد والظاء فقل (البیان) لاحدھما من الاخر لازم للقاری لئلا یختلط احدھما بالاخر فتبطل صلاتہ[2] سبحٰن اﷲ اگر ایں نہج ادا قرائے عرب را بودے حکم فساد دراچہ گنجائش بود بلکہ قطعًا ادغام روا بود و نماز مطلقًا اجماعًا صحیح ماندے چنانکہ در ماھو علی الغیب بضنین وہمچنیں درقول او تعالٰی اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ، حصب وحضب وحطب وحظب لصاد وضاء طاء وظاء ہر چہ خواند نماز قطعًا صحیح است کہ ایں کلمہ بہرچار حروف منطبقہ در قراء ت آمدہ است کما فی المنح الفکریۃ و غیرھا۔ |
گفتگو کے بعد کہا شارح نے کہافتاوٰی حجہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ علماء وفقہا کے حق میں نماز کے لوٹانے کا فتوٰی دیا جائے گا اور عوام کے حق میں جواز کا، میں کہتا ہوں اس معاملہ میں یہی تفصیل احسن ہے، واﷲ اعلم بالصواب۔ اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے اگر کسی نے غیر المغضوب میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوگی اور ولاالضالین میں ظاء یا دال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر ذال سے بدل کر پڑھا تو نماز فاسد ہوجائیگی ۔امام شیخ الاسلام زکریا انصاری کی شرح میں ہے(اور اگر یہ دونوں متصل ہوں) یعنی ضاد اور ظاء تو قاری کے لئے دونوں کو الگ الگ کرکے پڑھنا ضروری ہے تاکہ ایك دوسرے کے ساتھ مختلط ہو جائے ورنہ اس کی نماز باطل ہوجائےگی سبحان اﷲ اگر اس کی ادائیگی کا یہ طریقہ قراء عرب کا ہوتا تو فساد کے حکم کی یہاں کیا گنجائش تھی بلکہ ادغام یقینًا جائز اور نماز مطلقًا بالاتفاق درست ہوتی جیسا کہ ماھو علی الغیبِ بضنین میں ہے یہی حکم اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی میں ہے ۔ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ۔ یہاں حصب ،حضب ، حطب،حظب صاد ،ضاد،طاء اورظاء کے ساتھ جس طرح بھی پڑھ لیا جائے نماز درست ہوگی کیونکہ اس کلمہ کی ان چاروں حرفوں کے ساتھ قراء ت ثابت ہے جیسا کہ منح الفکریہ وغیرہ میں ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع