30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بعضے خواص و عوام سند خواندن دال از شرح کبیر بیان کردہ اند از استماعش درچند امور خلجان واقع گردید ترصد ازعلمائے ماہرین ومعتبرین کہ ازجواب رافع خلجان احقاق حق و ابطال باطل فرمایند اجرکم اﷲ تعالٰی فی الدارین امرے چند موجب اشتباہ وخلجان مخصوص ادائے ضاد شبیہ بدال مہملہ یا ظامعجمہ دریافت طلب ازعلمائے دین۔ اوّل: فصل زلّۃ قاری کہ درکتبِ فقہ علیحدہ ذیل حکم قراء ت فی الصلٰوۃ موضوع شدہ آیاحکم مسائل آں مخصوص بداں صورت است کہ ازقاری بلاقصد و ارادہ حرفے بجائے حرفے فجأۃً برزبان جاری شدہ باشد یاعلی العموم است قاری وتالی بالقصد و ارادہ حرفے حرف بجائے حرف خواندہ باشد برتقدیر تسلیم شق عموم ہرگاہ حکم قراء ت بالارادہ نوشتہ شدہ باعث معنون کردن فصل بہ زلۃ القاری چیست حالانکہ درزلۃ کہ معرب لغزش است ارادہ مفقود است۔ دوم: درصورت عموم صرف بر اتحاد مخرج و تشابہ صورت عموم و سہولت ادا اکتفاکردہ خواہد شد یالحاظ معنی ہم داشتہ خواہد شد و بصورتِ تبدیل معنی آ ں حکم فساد نماز دادہ ،خواہد شد ودریں صورت کسےکہ درابدال ضاد |
اور حرف پڑھنا محض غلط ہے ، ہر حرف خصوصًا ضاد کو اپنے مخرج سے اس کی صفات کے ساتھ ادا کرنا ہر شخص پر لازم ہے ، اس معاملہ میں بڑا اختلاف اور شور ہے بعض خواص اورعوام اسے دا ل پڑھنے پر شرح کبیر سے سند ذکر کرتے ہیں ،اس معاملہ میں چندامور سے خلجان واقع ہو رہا ہے ماہرینِ شریعت اپنے جواب سے انہیں رفع کریں تاکہ حق ثابت ہو اور باطل کا بطلان ہوجائے ، اﷲ تعالٰی دارین میں تجھے اجر سے نوازے ، ضاد کو دال یا ظا پڑھنے کی صورت میں جن امور میں اشتباہ و خلجان واقع ہو رہا ہے وُہ علماء سے دریافت طلب ہیں۔(وہ یہ ہیں) اوّل:کتبِ فقہ میں نماز کی قراء ت کے ضمن میں"زلۃ القاری"(قاری کا پھسلنا) کی جو فصل قائم کی گئی ہے اس کے مسائل کا حکم صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص ہے جب قاری سے بلاقصد وارادہ ایك حرف کی جگہ دوسرا حرف اچانك زبان پر جاری ہوجائے ،یاحکم عام ہے خواہ قاری اور تلاوت کرنے والا عمدًا اور قصدًا کسی حرف کی جگہ دوسراحرف پڑھ لے اگر عموم حکم والی (شق) تسلیم کرلی جائے تو جب اس میں قصدًا قراء ت کاحکم بھی تحریر ہوا ہے تو پھر اس فصل کا عنوان زلۃ القاری کیوں رکھا گیا؟ حالانکہ لفظ زلۃ لغزش سے معرب ہے جس میں قصد ا وارادہ مفقود ہوتا ہے۔بذال توارث بین الناس رامطلقًا دلیل گردانیدہ توجیہ صحت قولش چہ خواہد شد۔ دوم: عموم کی صورت میں صرف اتحادِ مخرج یا قربِ مخرج اور تشابہ کی صورت میں عام وآسان ادائیگی پر اکتفا کر لیا جائے گا یا معنی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور بصورتِ تبدیل معنی وفساد حکم فساد نماز کا ہوگا اس صورت میں جو شخص ضاد کو ذال سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع