30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہندیہ میں ہے :
|
اذاوقف فی غیر موضع الو قف اوابتدأ فی غیر موضع الابتداء ان لم یتغیر بہ المعنی تغیرا فاحشانحو ان یقرأ ان الذین اٰمنو اوعلموا الصٰلحٰت ووقف ثم ابتدأ بقولہ اولئك ھم خیر البریۃلاتفسدبالاجماع بین العلمائنا ھکذافی المحیط ،وکذا ان وصل فی غیر موضع الوصل کما لو لم یقف عند قولہ اصحٰب النار بل وصل بقولہ الذین یحملون العرش لا تفسد لکنہ قبیح ھکذا فی الخلاصۃ وان تغیربہ المعنی تغیرافاحشانحوان یقرأ اشھد اﷲ انہ لا الٰہ ووقف ثم قال الاھولا تفسد صلاتہ عندعامۃ علمائنا وعندالبعض تفسد صلاتہ والفتوی علی عدم الفساد بکل حال ھکذا فی المحیط[1] |
جب کسی نے غیر وقف کی جگہ وقف کیا یا مقام ابتدا کے غیر سے سے ابتدا کی تو اگر معنی میں فحش تبدیلی نہیں ،مثلًا پڑھنے والے نے اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ پڑھ کر وقف کیا پھر اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ سے ابتداکی تو ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ نمازفاسد نہ ہو گی،محیط میں اسی طرح ہے، اسی طرح اگر وصل کی جگہ کے علاوہ میں وصل کر لیا جیسا کہ اﷲ تعالٰی کے قول اصحٰب النارپر وقف نہ کیا بلکہ اسے الزین یحملون العرش کےساتھ ملا لیا نماز فاسد نہ ہوئی لیکن ایسا کرنا سخت ناپسند ہے۔خلاصہ میں اسی طرح ہے، اور اگر معنی میں فحش تبدیلی ہو مثلًا کسی نے اشھد اﷲ انہ لا الٰہ پرکرکے پڑھا"الّا ھو"تو ہمارے اکثر علماء کے نزیك نماز فاسد نہ ہوگی بعض کے ہاں فاسد ہوجائے گی اور فتوٰی اسی پر ہے کہ ہر صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی محیط میں اسی طرح ہے۔(ت) |
جو شخص اس قسم ترتیل کی مخالفت کرے اس کی امامت نہ چاہئے مگر نماز ہو جائے گی اگر چہ بکراہت عالمگیریہ میں ہے :
|
من یقف فی غیر مواضعہ ولا یقف فی مواضعہ لا ینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عندالقرأۃ کثیرا [2]۔ |
جو شخص مقاماتِ وقف میں وقف نہیں کرتا بلکہ مقاماتِ وقف کے غیر میں وقف کرتا ہے تو اسے امام نہ بنایا جائے اسی طرح اس کو امام نہ بنایا جائے جو اکثر کھانستا رہتا ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع