30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دُرمختار میں ہے:
|
یقرأ فی الفرض بالترتیل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلالہ ان یسرع بعدان یقرأ کما یفھم[1]۔ |
فرض نماز میں اس طرح تلاوت کرے کہ جدا جدا ہرحرف سمجھ آئے، تراویح میں متوسط طریقے پر اور رات کے نوافل میں اتنی تیز پڑھ سکتا ہے جسے وہ سمجھ سکے۔(ت) |
اُس کے بیان تراویح میں ہے: ویجتنب ھذرمۃ القرأۃ [2]۔ (اور جلدی جلدی قرأت سے اجتناب کرے۔ت)
دوم : مدوقف ووصل کے ضروریات اپنے اپنے مواقع پر ادا ہوں کھڑے کھڑے کا لحاظ ہے حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہوان کے بعد غنّہ نہ نکلے انّا کُنّا کو ان کن یا انّاں کنّاں نہ پڑھا جائے باوجیم ساکنین جن کے بعد"ت"ہو بشدت ادا کئے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں جہال جلدی میں ابتر اور تجتنبوا کو اپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے ۔ جہاں جب صراط وقاطعہ میں ص وط کے اجتماع میں مثلًا"یستطیعون""لاتطع"بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے بلکہ بعض سے"عتو"میں بھی بوجہ تفخیم عین و ضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے بالجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذنہ کرے نہ کوئی حرف چھُوٹ جائے نہ کوئی اجنبی پیدا ہو نہ محدود ومقصود ہو نہ ممدود اسی زیادت اجنبی کے قبیل سے ہے وہ الف جو بعض جہال"واستبقات""دعوا اﷲ""وقال الحمدﷲ""ذاقا الشجرۃ"کے قیاس پر"کلتاالجنتین""قیل ادخلو النار"میں نکالتے ہیں حالانکہ یہ محض فاسد اور زیادت باطل وکاسدو واجب واجماعی مدمتصل ہے منفصل کا ترك جائز و لہذا اس کا نام ہی مد جائز رکھا گیا اور جس حرف مدہ کے بعد سکون لازم ہو جیسے ضالین،الٓمّٓ وہاں بھی مد بالاجماع واجب اور جس کے بعد سکون عارض ہو جیسے العالمین، الرحیم، العباد، یوقنون بحالت وقف یا قَالَ اَلَلّٰھُمَّ بحالت ادغام وہاں مدوقصر دونوں جائز، اس قدر ترتیل فرض و واجب ہے اور اس کا ترك گنہگار ،مگر فرائضِ نماز سے نہیں ترك مفسد صلاۃ ہو۔مدارك التنزیل میں ہے :
|
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ای قرأعلی تؤدۃ |
قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر کر پڑھو،اس کا معنی یہ ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع