30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ وروی ابو داؤد وغیرہ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نعتت قرأۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قرأۃ مفسرۃ حرفا حرفا[1]۔ |
ارشاد ہے قرآن کو خوب ترتیل کے ساتھ پڑھو، اور ابو داؤد نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی قرأۃ کی صفت کے بارے میں یوں بیان کیا ہے کہ آپ اس طرح تلاوت فرماتے کہ قرأت مفسر ہوتی اور ایك ایك حرف جدا جدا معلوم ہوتاتھا الخ(ت) |
حدیث میں ہے :
|
لاتنثروہ نثرالدقل ولا تھذوہ ھذا الشعر قفواعند عجائبہ وحرکوہ بہ القلوب ولا یکون ھم احدکم اٰخر السورۃ [2]۔ |
یعنی قرآن کو سُوکھے چھوہاروں کی طرح نہ جھاڑو(جس طرح ڈالیاں ہلانے سے خشك کھجوریں جلد جلد جھڑ جھڑ پڑتی ہیں اور شعر کی طرح گھاس نہ کاٹو ، |
عجائب کے پاس ٹھہرتے جاؤ اوراپنے دلوں کو اُس سے تدبر سے جنبش دو اور یہ نہ ہو کہ سورت شروع کی تو اب دھیان اسی میں لگا ہے کہیں جلد اسے ختم کریں۔
|
رواہ ابوبکر الآجری فی کتاب حملہ القراٰن وعن طریقہ البغوی فی المعالم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ والدیلمی مثلہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ والعسکری فی المواعظ من حدیث امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ انہ سئل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن قولہ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾قال فذکرہ۔ |
اسے امام ابوبکر آجری نے"کتاب حملۃ القرآن"میں نقل کیا ہے، اور امام بغوی نے معالم میں اسے حضرت عبداﷲ بن مسعودکا قول اور دیلمی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا عسکری نے المواعظ میں حضرت امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے حوالے سے بیان کیاکہ نبی اکرمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اﷲ تعالٰی کے ارشاد گرامی ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں پُوچھا گیا تو آپ نے مذکورہ الفاظ میں تشرح فرمائی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع