30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صوتہ او لیھتدی امامہ اوالاعلامہ انہ فی الصلاۃ فلا فساد علی الصحیح١[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
پس اگر تحسین آواز یا امام کی رہنمائی یا اس اطلاع کے لئے کھانسا کہ وہ نماز میں ہے تو صحیح یہی ہےکہ نماز فاسد نہ ہوگی ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ نمبر ٤٧٠: مرسلہ جناب حافظ مولوی امیر اﷲ صاحب ٢٣ شعبان ١٣١٥ھ
بیضاوی مین قرأت بضنین کو بتایا اور ضاد کا مخرج اور ظاء کا اس سے محشی اشارہ بتاتا ہے قرأتین واحد نہ کی جائیں اس کے متعلق جو جو حاشیے یا شرح ہوں ان میں سے یہ بات بتائی جائے کہ کوئی باوجود مخرجین جدا ہونےکے اور استعلا واطباق میں ایك ہونے کو مشتبہ الصوت کون کون بتاتا ہے اور اس قضیہ کا کیا حال ہے صرف مشتبہ الصوت مان لینے سے ظواد یا دواد صحیح ہوسکتا ہے فقہانے دواد مفخم اور ظواد ودواد مستہجن کا صریح حکم کیابتایا ہے ؟بینوا توجروا
الجواب: ض و ظ قدر مشتبہ الصوت ہونا یقینی ہے یہاں تك کہ تمیز دشوار مگر نہ یہ ظ جو عامہ عوام نکالتے ہیں یہ ذمفخم جب اپنے مخرج سے صحیح طور پر برعایت استعلا واطباق لسان ادا کی جائے گی ضرور مشابہ الصوت بض ہوگی یہاں تك کہ اگر استطالہ واقع ہو ض ہوجائے ذواد نہ مستحسن نہ مستہ جن بلکہ محض غلط اسی طرح دواد اور صحیح ظواد بھی نہیں فقہائے کرام سب کا ایك حکم دیتے ہیں کہ بحالت فساد معنی نماز فاسد جیسے مغظوب اور معذوب اور بحالت صحت معنی صحیح جیسے ظالین دوالین[2] کما فی الغنیۃ وغیرھا (جیسا کہ غنیۃ وغیرہ میں ہے) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٤٧١: از شہر کٹك ضلعاڑیسہ بخشی بازار مرسلہ شیخ طاہر محمد عثمان ٢٥رمضان المبارك ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین و شرح متین اس مسئلہ میں کہ آنریری مجسٹریٹ کی امامت جائز ہے یا نہیں ،اور جو ترتیل سے نہ پڑھے اس کی امامت جائز یا ناجائز اور نیز تر تیل کی حد معلوم ہو۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
ترتیل کی تین حدیں ہیں ہر حد اعلٰی میں اسکے بعد کی حد ماخوز و ملحوظ ہے۔
حد اوّل :یہ کہ قرآن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع