30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صورت جواز مستثنٰی بایدش فہمید ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ضمِ سورت (واجب) پہلے حاصل ہو چکا اور سورت کے بعد رکوع فورًا واجب نہیں ہوتا بلکہ جب تك نمازی تلاوت کرنا چاہے کرسکتا ہے ۔میں کہتا ہوں مقتدی پر بوجھ ہونے کی صورت سے غافل نہیں ہوجانا چاہئے کیونکہ مثلًا قدر مسنون قرأت سے زائد پر اگر نمازی بوجھ محسوس کرتا ہے تو ایسی صورت مطلقًا ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے اور یہ حکم ہر مقام پر ہوگاخواہ نمازفرض ہو یا نفل ،البتہ ہرجا صورت جوازکو مستثنٰی سمجھ لینا چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ نمبر ۴۶۲:
|
از یك سورۃ طویلہ آیات متفرقہ در رکعات خواندن مثلًا دراولٰی آیت الکرسی ودر ثانیہ اٰمن الرسول |
طویل سورت سے مختلف رکعات میں متفرق آیات پڑھنا کیسا ہے ؟ مثلًا پہلی رکعت میں آیت الکرسی اور دوسری میں اٰمن الرسول۔ |
الجواب:
|
ایں چنیں قرأت در دو۲رکعت جائز است وکراہت ندارد بشرط آنکہ میان ہردو موضع فصل کم زدوآیت نباشد فاما بہتر آنست کہ بے ضرورت ایں ہم نکند لانہ یوھم الاعراض عن البعض والعیاذ باﷲ تعالٰی واگرہمیں فصل یك آیت است یا دررکعت واحدہ بے ضرورت ارتکاب ایں معنی کرد مکروہ است اگرچہ فصل چندیں آیات باشد اقول: وگمان دارم کہ نفل دریں باب مخالف فرض نباشد لما ذکر فی فتح القدیر من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لبلال رضیﷲ تعالٰی عنہ اذاابتدأت بسورۃ فا تمھا علی نحوھا قالہ حین سمعہ ینتقل فی التھجد من سورۃ الٰی سورۃ [1] کما رواہ ابوداؤدوغیرہ فقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھذا کما کان نھیا عن |
یہ قرأت دو رکعت میں بلاکراہت جائز ہے بشرطیکہ دونوں قرأت کے درمیان دو آیات سے کم مقدار نہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ بغیرضرورت ایسا بھی نہ کرے کیونکہ بعض آیات سے اعراض کا وہم ہوگا العیاذ باﷲ تعالٰی، اگر یہ فاصلہ ایك آیت کی مقدار ہو یا ایك رکعت کی مقدار ہو یا ایك ہی رکعت میں بغیر ضرورت کے ایسا کرے تو مکروہ ہے اگرچہ فاصلہ متعدد آیات کا ہو۔اقول(میں کہتا ہوں) میں یہ سمجھتا ہوں اس معاملہ میں نوافل ،فرائض کے مخالف نہیں کیونکہ فتح القدیر میں ہے:نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو ارشاد فرمایا جب تُو کوئی سورۃ شروع کرے تو اسے مکمل کر ،آپ نے یہ اس وقت فرمایا جب انھیں تہجد میں ایك سورت سے دوسری سورت کی طرف منتقل ہوتے ہوئے سنا، جیسا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع