30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ترکہ [1]۔ |
سمجھا جائے گا (یعنی اس میں جہد کو ترك کرنا قابل قبول نہیں (ت) |
قہستانی و طحطاوی وغیرہما میں ہے:
|
قولہ دائما ای اٰناء اللیل واطراف النھار[2]۔ |
دائمًا سے رات کا کچھ حصّہ اور دن کے اطراف مراد ہیں۔(ت) |
اسی طرح اور کتب کثیرہ میں ہے ، تو کیونکر جائز کہ جہد وسعی بالائے طاق سرے سے حرف منزِل فی القرآن کا قصد ہی نہ کریں بلکہ عملًا اسے متروك و مہجور ،اور اپنی طرف سے دوسراحرف اس کی جگہ قائم کردیں ۔فقیر کہتا ہے غفراﷲ تعالٰی بعد اسکے کہ عرشِ تحقیق مستقر ہوچکا کہ قرآن اسم نظم و معنی جمیعا بلکہ اسم نظم من حیث الارشاد الی المعنی ہے اور نظم نام حروف علٰی ہٰذاالترتیب المعروف اورحروف باہم متباین اور تبدیل جز قطعًا مستلزم تبدیل کل کہ مؤلف من مبائن یقینا غیر مؤلف من مبائن آخر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس تبدیل عمدی اور تحریف کلام اﷲ میں کتنا تفاوت مانا جائے گا۔لاجرم امام اجل ابوبکر محمد بن الفضل فضلی وامام برہان الدین محمود بن الصدر السعید وغیرہما اجلہ کرام نے تو یہاں تك حکم دیا کہ جو قرآن عظیم میں عمدًا ض کی جگہ ظ پڑھے کافر ہے۔
|
اقول: ولا حاجۃ الی استثناء (وماھو علی الغیب بضنین) فان ھھنا لیس مقام الضاد خاصۃ بل مقامھما جمیعا لان اللفظ قرئ بھما فی القراٰن ،فکان مثل صراط وسراط وبسطۃ وبصطۃ ویبسط ویبصط ومصیطر ومسیطر الی اشباہ ذلك بخلاف ضالین وظالین وسجیل وصجیل فانہ تبدیل۔ |
میں کہتاہوں"وماھوعلی الغیب بضنین"کے استثناء کی حاجت نہیں ہے کیونکہ اس مقام پر ضاد کی جگہ ظاء کو رکھنا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ مقام ضاد کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ دونوں کا مقام ہے کیونکہ قرآن میں یہ لفظ دونوں قرأتوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ ان الفاظ کی طرح ہے۔صراط اور سراط،بسطۃ اور بصطۃ،یبسط اور یبصط ،مصیطر ار مسیطر ، اور ان کی طرح کے دوسرے الفاظ بخلاف ضالین کی جگہ ظالین اور سجیل کی جگہ صجیل کے کیونکہ یہاں تبدیلی ہے۔(ت) |
[1] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی زلۃ القاری مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۸۳
نوٹ:غنیۃ کی عبارت جو مجھے ملی ہے وہ اس طرح ہے: یجب علیھم الجھد دائما وصلٰوتھم جائزۃ مادامواعلی الجھد - اور اس سے کچھ قبل یہ الفاظ ہیں :ینبغی ان یجتھد ولا یعذر فی ذلك الخ -البتہ صغیری شرح منیۃ المصلی مطبوعہ دہلی بعینہٖ یہی الفاظ متن ص ۲۵۰ پر موجود ہیں۔ نذیر احمد سعیدی
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع