30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صغیری میں ہے:
|
لو قرأالھمدﷲ بالھاء مکان الحاء الحکم فیہ کالحکم فی الالثغ علی مایاتی قریبا[1] اھ ملخصا |
اگر کوئی حاء کی جگہ ھاء کہتے ہوئے الھمدُﷲ پڑھے تو اس کا حکم توتلے کے حکم کی طرح ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اھ ملخصًا(ت) |
پھر فرمایا:
|
المختار فی حکمہ یجب علیہ بذل الجھد دائما فی تصحیح لسانہ ولا یعذر فی ترکہ وان کان لاینطق لسانہ فان لم یجد اٰیۃ لیس فیھا ذلك الحرف الذی لایحسنہ تجوز صلاتہ بہ ولا یؤم غیرہ فھوبمنزلۃ الامی فی حق من یحسن ما عجز ھو عنہ واذا امکنہ اقتدأہ بمن یحسنہ لاتجوز صلاتہ منفردا وان وجد قدرما تجو زبہ الصلاۃ ممالیس فیہ ذلك الحرف الذی عجز عنہ لاتجوز صلاتہ مع قرأۃ ذلك الحرف لان جواز صلاتہ مع التلفظ بذلك الحرف ضروری فینعدم بانعدام الضرورۃ ھذا ھوالصحیح فی حکم الالثغ ومن بمعناہ ممن تقدم اٰنفا [2]۔ |
مختار یہی ہے کہ اس پر تصحیح زبان کے لئے ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اور اس کے ترك پر معذور نہیں سمجھا جائے گا اگرچہ اس کی زبان کا اجراء درست نہ ہو جس کو وُہ اچھی طرح ادا نہیں کرسکتا تو اب اس کی نماز اس آیت سے درست ہوگی البتہ وُہ غیر کی امامت نہ کروائے ، پس وہ صحیح ادائیگی کرنے والے کے حق میں امّی کی طرح ہوگا اس آیۃ میں جس سے عاجز ہے، اور جب مذکورہ شخص کو ایسے آدمی کی اقتدا ممکن ہو جوصحیح ادا کرسکتا ہے، تو اس کی تنہا نماز نہ ہوگی، اور اگر وہ ایسی آیۃ پر قادر ہے جس میں مذکورہ حرف نہیں تو اس حرف والی آیۃ پڑھنے کی وجہ سے نماز نہ ہوگی کیونکہ اس حر ف کا درست پڑھنا نماز کے لئے ضروری تھا جب وہ تقاضا معدوم ہے تو نماز کا وجود بھی نہ ہو گا ۔توتلے اور اس جیسے شخص کے لئے یہی حکم ہے اور یہی صحیح ہے۔(ت) |
ولوالجیہ میں ہے:
|
ان کان یمکنہ ان یتخذ من القراٰن |
اگر توتلے کے لئے قرآن مجیدکے دیگر مقامات سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع