30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی خزانۃ الاکمل فی سیاق النقل عن فتاوی ابی اللیث لو قال الھمدﷲ اوکل ھواﷲ احد جاز اذالم یقدر علی ٖغیر ذلك او بلسانہ عقلۃ قال الفقیہ فان لم تکن بلسانہ عقلۃ ولکن جری علی لسانہ ذلك لا تفسد انتھی فلم یذکر ھذا الشرط وان کان بعد ذلك ذکرہ عن ابراھیم بن یوسف والحسین بن مطیع۔[1] |
شرط کے مقتضٰی کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خزانۃ الاکمل میں فتاوٰی ابوللیث سے نقل کرتے ہوئے کہا اگر نمازی نے الھمد ﷲ یا کل ھواﷲ احد پڑھ لیاتو جائز ہے بشرطیکہ وہ اس کے غیر پر قادر نہ ہو یا اس کی زبان میں رکاوٹ(لکنت) ہوفقیہ(ابوللیث) نے کہا اگر زبان میں رکاوٹ(لکنت) نہ تھی لیکن اس کی زبان پر یہ چیز ازخود جاری ہوگئی تو نماز فاسد نہیں ہوگی انتہی پس انھوں نے یہ شرط ذکر نہیں کی اگرچہ اس کے بعد والوں نے ابراہیم بن یوسف اور حسین بن مطیع کے حوالے سے ذکر کی ہے(ت) |
اُسی میں ہے:
|
قد عرفت اٰنفاانہ لاینبغی اشتراط الاجتھاد فی ذلك لمن ھو فیہ خلقۃ او لعارض لیس ممایزول عادۃ۔[2] |
ابھی آپ نے پڑھا کہ اس شخص کے لئے کوشش کرنے کی شرط لگانا مناسب نہیں جس میں وہ چیز خلقۃً (فطرۃً) ہویا ایسے عارضہ کی وجہ سے جو عادۃً زائل نہیں ہوتا ۔ (ت) |
طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے:
|
کلام ابن امیر الحاج یفید ان ھذاالشرط فیہ خلاف والاکثرلم یذکروہ لان فیہ حرجا عظیما [3] اھ اقول ورأیتنی کتبت علی ھامش حاشیتہ علی المراقی مانصہ اقول رب ماکان خلقۃ یتبدل بالتکلف ورب مالا یتوقع یاتی الجھد فیہ بالفرج، ولعل القول الفصل |
ابن امیر الحاج کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ اس شرط میں اختلاف ہے اور اکثر علماء نے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں حرج عظیم ہے اھ میں کہتا ہوں مجھے یاد آرہا ہے کہ مراقی الفلاح پرطحطاوی کے حاشیہ پر میں نے حاشیہ لکھا ہے عبارت یہ ہے میں کہتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز خلقۃً و فطرۃً ہو اسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع