30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاشیہ طحطاویہ میں زیر قولہ بذل جھدہ دائما ہے۔
|
قولہ دائما ای اناء اللیل واطراف النھار کما مرعن القھستانی[1]۔ |
ان کے قول دائمًا کا مطلب یہ ہے کہ وہ رات کے حصّوں اور دن کے اطراف میں بھر پور کوشش کرے جیسا کہ قہستانی کے حوالے سے گزرا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ دائما ای فی اٰناء اللیل واطراف النھار فمادام فی التصحیح والتعلم ولم یقدر علیہ فصلاتہ جائزۃ و ان ترك جھدہ فصلاتہ فاسدۃ کما فی المحیط وغیرہ قال فی الذخیرۃ وانہ مشکل عندی لان ما کان خلقۃ فالعبد لا یقدر علی تغییرہ اھ وتمامہ فی شرح المنیۃ [2] |
ان کے قول دائمًا سے مراد یہ ہے کہ رات اور دن کے اطراف میں تصحیح کی بھر پور کوشش کرے ،پس اگر وہ ہمیشہ تصحیح و تعلم میں بھر پور کوشش کے باوجود اس پر قدرت نہ رکھے تو اس کی نماز درست ،اور اگر وہ کو شش ہی ترك کردے تو اس کی نماز فاسد ہوگی جیسا کہ محیط وغیرہ میں ہے، ذخیرہ میں کہا یہ میرے نزدیك مشکل ہے کیونکہ جو چیز فطری اور خلقی ہو بندہ اس کی تبدیلی پر قادر نہیں ہوسکتا اور اس پر تفصیلی گفتگو شرح منیہ میں ہے (ت) |
غنیہ میں ہے:
|
قال صاحب المحیط المختار للفتوٰی انہ ان ترك جھدہ فی بعض عمرہ لایسعہ ان یترك فی باقی عمرہ ولو ترك تفسد صلٰوتہ قال صاحب الذخیرۃ انہ مشکل عندی الخ وذکر فی فتاوٰی الحجۃ مایوافق المحیط فانہ قال علی جواب الفتاوٰی الحسامیۃ ماداموافی التصحیح والتعلم با للیل |
صاحب المحیط نے کہا ہے یہ مختار للفتوٰی ہے اوراگر اس نے عمر کے بعض حصّے میں یہ کوشش ترك کردی ہو تو باقی عمر میں ترك کی گنجائش نہیں اگر ترك کرے گا تو نماز فاسد ہوگی ، صاحب الذخیرہ نے کہا میرے نزدیك یہ بہت مشکل ہے الخ فتاوٰی حجہ میں جو کچھ ہے وہ محیط کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے فتاوٰی حسامیہ کے جواب پر کہا ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع