30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی مسجد اٰخر ۔[1] |
مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔(ت) |
اور اگر یہ صورت ہو کہ حافظ مذکور فرضوں میں قرآن مجید صحیح پڑھتا ہے اور خطا یا ئے مفسد ہ صرف تراویح میں بوجہ عجلت وبے احتیاطی واقع ہوتی ہیں تو فرض میں اس کی اقتدا کرے تراویح میں بھی یہی حکم ہے ورنہ درصورت فسادفرضوں میں بھی اقتداء درست نہیں کما لا یخفی (جیسا کہ ظاہر ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۴۵۵: ۷ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایك آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدًا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلًا ایك آدھ کلمہ بآوازِ بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ ردالمحتار میں ہے۔
|
الاسرار یجب علی الامام والمنفرد فیما یسرفیہ وھو صلٰوۃ الظھر والعصر و الثالثۃ من المغرب و الاخریان من العشاء و صلاۃ الکسوف و الاستسقاء کما فی البحر[2]۔الخ |
سری نمازوں میں امام منفرد دونوں پر اسرار(سرًا قرأت) واجب ہے اور نماز ظہر ،عصر ،مغرب کی تیسری رکعت ،عشاء کی آخری دوکعت ،نمازکسو ف اور نماز استسقاء ہیں ۔جیسا کہ بحر میں ہے الخ(ت) |
دُر مختار میں ہے:
|
تجب سجدتان بترك واجب سھواکالجھر فیما یخافت فیہ وعکسہ والاصح تقدیرہ بقدرما تجوز بہ الصلٰوۃ |
سہوًا ترك واجب سے دو سجدے لازم آتے ہیں مثلًا سری نماز میں جہرًا قرأت کرلے یا اسکا عکس ،اور اصح یہی ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قرأت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع