30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایقاع الناس فی الحرج خصوصًا فی حق العوام و الحرج مدفوع شرعًا [1]۔ |
رعایت لازم کرنے سے لوگوں پر خصوصًا عوام پر تنگی لازم آئے گی اور شرعًا تنگی مرفوع ہے۔(ت) |
یوں ہی ضمیر"نا"میں الف مسموع نہ ہونا مفسد نہیں۔
|
لما صرح بہ القنیۃ ان من العرب یکتفی عن الالف بالفتحۃ و الیاء بالکسرۃ والواو بالضمۃ تقول اعْذُباﷲ مکان اعوذ باﷲ ، قلت وعلیہ یخرج ماصرح بہ فی الغنیۃ ان حذف الیاء من تعالی فی تعالی جد ربنا لاتفسداتفاقا۔[2] |
کیونکہ قنیہ میں تصریح ہے کہ بعض عرب الف کے عوض فتحہ ، یاء کے عوض کسرہ اور واؤ کے عوض ضمہ پر اکتفاء کرتے ہیں مستفاد ہے کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد تعالٰی جد ربنا میں تعالٰی کی یا حذف کرنے سے بالاتفاق نماز فاسد نہ ہوگی۔ |
اسی طرح حروف و کلمات کا فروگذاشت ہوجانا بھی دوامًا موجبِ فساد نہیں ہوتا بلکہ اسی وقت کہ تغییر کا معنی کرلے کما ھو ضابطۃ الائمۃ المتقد مین رحمھم اﷲ تعالٰی (جیسا کہ ائمہ متقدمین رحمہم اﷲ تعالٰی کا مسلّمہ ضابطہ ہے ۔ت)
بالجملہ اگر حافظ مذکور سے وُہ خطائیں جو مفسد نماز ہیں واقع نہیں ہوتیں تو نماز اسکے پیچھے درست ،اور ترك جماعت کے لئے یہ عذر نا مسموع، اور اگر خطایائے مفسدہ صادر ہوتے ہیں تو بے شك وہ نماز نماز ہی نہیں۔نہ وہاں ثواب کی گنجائش بلکہ عیاذا باﷲ عکس کا خوف ہے ، نہ اہلِ محلّہ کو دوسری مسجد میں جانے کی حاجت کہ یہی مسجد جوان پر حق رکھتی ہے ہنوز محتاجِ نماز و جماعت ہے۔ نماز فاسد کا تو عدم وجودشرعًا یکساں ،پس اگر ممکن ہو تودوبارہ جماعت وہیں قائم کرے ورنہ آپ ہی مسجد میں تنہا پڑھ لے کہ حقِ مسجد ادا ہو،
|
کما افادہ فی الفتاوی الخانیۃ وفیھا ایضامؤذن بمسجد لایحضر مسجدہ احد قالوا یوذن ھو یقیم ویصلی وحدہ وذاك احب من ان یصلی |
جیسا کہ فتاوٰی خانیہ میں اس کا افادہ کیا اور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی ایسی مسجد کا موذن جہاں کوئی اور نمازی نہیں آتا تو موذن اذان دے ،تکبیر کہے اور تنہا نماز ادا کرے۔اور یہ اس کے لئے دوسری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع