30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح میں بھی اسکا فائدہ دیتا
ہے۔ت) پس جو خود اُن کے نزدیك متروك ہم پر اُس سے کس طرح احتجاج کرتے ہیں۔
بالجملہ ہمارا مذہب مہذب بحمد اﷲ حجج کافیہ و دلائل وافیہ سے ثابت ، اور
مخالفین کے پاس کوئی دلیل قاطع ایسی نہیں کہ اُسے معاذاﷲ باطل یا مضمحل کرسکے مگر
اس زمانہ پُرفتن کے بعض جہال بے لگام جنھوں نے ہوائے نفس کو اپنا امام بنایا اور
انتظام اسلام کو درہم برہم کرنے کے لئے تقلید ائمہ کرام میں خدشات و اوہام پیدا
کرتے ہیں جس ساز و سامان پر ائمہ مجتہدین خصوصًا امام الائمہ حضرت امام اعظم رضی
اﷲ تعالٰی عنہ وعن مقلد یہ کی مخالفت اور جس بضاعت مزجات پر ادعائے اجتہاد وفقاہت
ہے عقلائے منصفین کا معلوم اصل مقصود ان کا اغوائے عوام ہے کہ وہ بیچارے قرآن و
حدیث سے ناواقف ہیں جو ان مدعیانِ خام کار نے کہہ دیا اُنھوں نے مان لیا اگرچہ
خواص کی نظر میں یہ باتیں موجب ذلّت و باعث فضیحت ہوں ،اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی وساوس
شیطان سے امان بخشے اٰمین ھذاوالعلم عند واھب العلوم العالم بکل سرمکتوم (اسے قبول فرما اور حقیقی علم اس ذات کے پاس جو
تمام علوم عطا فرمانے والا اورتمام مخفی رازوں سے واقف ہے۔ت)
مسئلہ نمبر ۴۵۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو حافظ نماز میں اس طرح قرآن مجید پڑھتا ہو کہ نہ تو صحیح اعراب کا دھیان رکھتا ہے اور نہ اوقاف لازمہ پر وقف کرتا ہے اور ماضی جمع متکلم کے صیغے ایسے ادا کرتا ہے کہ سامعین کو جمع مونث غائب کا شبہ ہوتا ہے اور اکثر جگہ حروف و کلمات بھی فروگذاشت ہوجاتے ہیں تو اس کے سُننے میں کچھ ثواب کی امید یا باکل نہیں اور نماز اس کے پیچھے درست ہے یا نہیں اور یہ عذر ترك جماعت کے لئے مقبول ہوگا یا نہیں یا دوسری مسجد میں جماعت کے لئے جانا ضروری ہے یا صرف فرض جماعت سے ادا کرے باقی نماز مکان پر پڑھے۔(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
خطا فی الاعراب یعنی حرکت،سکون ، تشدید، تخفیف، قصر،مد کی غلطی میں علمائے متاخرین رحمہ اﷲ علیہم اجعیمن کا فتو ی تو یہ ہے کہ علی الاطلاق اس سے نماز نہیں جاتی۔
|
فی الدرالمختار وزلۃ القاری لو فی اعراب لا تفسد وان غیر المعنی بہ یفتی۔بزازیہ [1] |
دُرمختار میں ہے کہ قرأت کرنے والے کی غلطی اگر اعراب میں ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ اس سے معنی بدل جائے اسی پر فتوٰی ہےبزازیہ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع