30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ھی خداج ھی خداج [1]۔حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔ اس کا جواب بھی بعینہٖ مثل اول کے ہے نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلّم اور قرأت امام قرأتِ ماموم سے مغنی خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمھیں اس وقت بکار آمد ہوں گی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے امّ الکتاب رہتی ہو وھو ممنوع (اور یہ ممنوع ہے ۔ت) اور آخر حدیث میں قول حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اقرأ بھا فی نفسك یا فارسی [2](اپنے دل میں پڑھ اے فارسی۔ت)کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں فقیر بتوفیق الہی اُس سے ایك جواب حسن طویل الذیل رکھتا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔
تیسری دلیل: حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ لا تفعلو ا الابام القراٰن [3]امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے فاتحہ کے۔
اولًایہ حدیث ضعیف ہے اُن صحیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم اورترمذی ونسائی وموطائے امام مالك وموطائے امام محمد وغیرہا صحاح و معتبرات سے نقل کیں کب مقاومت کرسکتی ہے ،امام احمد بن حنبل وغیرہ حفّاظ نے اس کی تضعیف کی ، یحیی بن معین جیسے ناقدین جس کی نسبت امام مدوح نے فرمایا جس حدیث کو یحیٰی نہ پہچانے حدیث ہی نہیں فرماتے ہیں استثنائے فاتحہ غیر محفو ظ ہے۔
ثانیًا خودشافعیہ اس حدیث پر دو ۲ وجہ سے عمل نہیں کرتے:ایك یہ کہ اس میں ماورائے فاتحہ سے نہی ہے اور ان کے نزدیك مقتدی کو ضمِ سورت بھی جائز ہے۔صرح بہ الامام النو وی فی شرح صحیح مسلم (امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اس کی تصریح کی ہے) دوسرے یہ کہ حدیث مذکور جس طریق سے ابوداؤد نے روایت کی بآواز بلند منادی کہ مقتدی کو جہرًا فاتحہ پڑھنا روا اور یہ امر بالاجماع ممنوع صرح بہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم (شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس بات کی تصریح کی ہے اور امام نووی کا کلام
[1] الصحیح المسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰-۱۶۹
[2] الصحیح المسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۹
[3] مسند احمد بن حنبل حدیث عبادہ بن الصامت مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵/ ۳۲۲،سنن الدار قطنی باب وجوب قرأۃ ام الکتاب الخ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ۱/ ۳۱۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع