30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ یہ حدیث غایت درجہ کی صحیح
الاسناد ہے حتی کہ مالك بن نافع عن ابن عمر کو بہت محدثین نے صحیح ترین اسا نید
کہا۔
حدیث ۱۰:محمد اخبرنا عبیداﷲ بن عمربن
حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی
عنہ قال من صلی خلف الامام کفتہ قرأتہ [1]۔ یعنی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما
فرماتے ہیں مقتدی کو امام کا پڑھنا کافی ہے ۔ فقیر کہتا ہے یہ سند بھی مثل سابق کے
ہے اور اس کے رجال بھی رجال صحاح ستہ ہیں ، بلکہ بعض علما ء حدیث نے روایات نافع
عن عبیداﷲ بن عمر کو امام مالك پر ترجیح دی ۔
حدیث ۱۱: محمد اخبرنا عبدالرحمن بن عبداﷲ المسعودی اخبرنی انس بن سیرین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما انہ سئل عن القرأۃ خلف الامام قال تکفیك قرأۃ الامام ۔[2]یعنی سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے دربارہ قرأت استفسار ہوا فرمایا تجھے امام کا پڑھنا بس کرتا ہے۔
حدیث ۱۲: امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاو ی رحمۃ اﷲ علیہ معانی الآثار میں روایت کرتے ہیں :حدثنا ابن وھب فساق باسنادہ عن زید بن ثابت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سمعہ یقول لایقرأ المؤتم خلف الامام فی شیئ من صلاۃ [3]یعنی سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں مقتدی امام کے پیچھے کسی نماز میں قرات نہ کرے یعنی نماز جہر ہو یا سریہ:
حدیث ۱۳:محمد اخبرنا داؤد بن قیس ثنا عمر بن محمد بن زید عن موسٰی بن سعید بن زید بن ثابت الانصاری یحدثہ عن جدہ قال من قرأخلف الامام فلا صلٰوۃ لہ [4] ۔یعنی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے پڑھے اس کی نماز جاتی رہی ۔فقیر کہتا ہے یہ حدیث حسن ہے اور دارقطنی نے بطریق طاؤس اسے مرفوعًا روایت کیا۔
حدیث ۱۴: الحافظ بن علی بن عمر الدارقطنی عن ابی حاتم بن حبان ثنی ابراہیم بن سعد عن احمد بن علی بن سلیمان الدوری عن عبدالرحمٰن المخزومی
[1] مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۹۷
[2] مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۹۸
[3] شرح معانی الاثار باب القرأۃ خلف الامام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۵۱)
[4] مؤطا الامام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع