30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولا اصحاب عبداﷲ جمیعا [1]۔یعنی علقمہ بن قیس کہ کبار تابعین و اعاظم مجتہدین اور افقہ تلامذہ سیّدنا بن مسعود ہیں امام کے پیچھے ایك حرف نہ پڑھتے چاہے جہر کی قرأت ہو چاہے آہستہ کی اور نہ پچھلی رکعتوں میں فاتحہ پڑھتے اور نہ اور کچھ جب امام کے پیچھے ہوتے اور نہ کسی نے حضرت کے اصحاب عبد اﷲ بن مسعود سے قرأت کی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
اثر ۲: محمد فی الموطااخبرنا بکیر بن عامر مرثنا ابرہیم النخعی عن علقمۃ بن قیس قال لان اعض علی جمرۃ احب الی من ان اقرأخلف الامام[2]۔یعنی حضرت علقمہ بن قیس فرماتے ہیں البتہ آگ کی چنگاری منہ میں لینا مجھے اس سے زیادہ پیاری ہے کہ میں امام کے پیچھے قرأت کروں۔
اثر ۳:محمد ایضا اخبرنا اسرائیل من یونس ثنا منصور عن ابراہیم قال ان اول من قرأ خلف الامام رجل اتھم[3]۔یعنی ابراہیم بن سوید النخعی نے کہ رؤسائے تابعین وائمہ دین متین سے ہیں تحدیث و فقاہت ان کی آفتاب نیمروز ہے فرمایا پہلے جس شخص نے امام کے پیچھے پڑھا وہ ایك مرد متہم تھا۔حاصل یہ کہ امام کے پیچھے قرأت ایك بدعت ہے جو ایك بے اعتبار آدمی نے احداث کی ۔فقیر کہتا ہے رجال اس حدیث کے رجال صحیح مسلم ہیں۔
حدیث ۹: امام مالك اپنی مؤطا میں اورامام احمد بن حنبل رحمہم اﷲ تعالٰی اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں:وھذا سباق مالك عن نافع ان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان اذا سئل ھل یقرأ احد خلف الامام قال اذا صلی احدکم خلف امام فحسبہ قرأۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرأ قال وکان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما لایقرأخلف الامام [4]۔یعنی سیدنا و ابن سیدنا عبداﷲ بن امیرالمؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے جب دربارہ قرأتِ مقتدی سوال ہوتا فرماتے جب کوئی تم میں امام کے پیچھے نماز پڑھے تواسے قرأت امام کافی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو قرأت کرے۔نافع کہتے ہیں عبدااﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما خود امام کے پیچھے قرأت نہ کرتے فقیر کہتاہے۔
[1] کتاب الآثار امام محمد باب القرأۃ خلف الامام وتلقینہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۱۶
[2] موطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
[3] موطا امام محمد باب القرأۃ فی الصلوٰۃ خلف الامام مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۰۰
[4] مؤطا امام مالك ترك القرأۃ خلف الامام مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۸۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع