30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر
تم میں کوئی امامت کرے و ہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تم چپ
رہو۔
حدیث ۲: ابوداؤد
و نسائی اپنی اپنی سُنن میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں سرورِ
عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:انما الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبر وا اذاقرأ
فانصتوا [1]ھذا الفظ
النسائی۔ یعنی امام تو اس لئے ہے کہ
اس کی پیروی کی جائے پس جب وہ تکبیرکہے تو تم بھی کہو اورجب قرأت کرے خاموش رہو
۔یہ نسائی کے الفاظ ہیں ۔ امام مسلم بن حجاج نیشاپوری رحمہ اﷲ تعالٰی اپنی صحیح
میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں کہ میرے نزدیك صحیح ہے۔
حدیث۳: ترمذی اپنی جامع میں سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری
رضی اﷲتعالٰی عنہما سے راوی :من صلی رکعۃ لم یقرء فیھا بام القراٰن فلم یصل الا ان یکون وراء الامام [2]۔یعنی جو کوئی رکعت بے سورہ فاتحہ کے پڑھی اس کی
نماز نہ ہوئی مگر جب امام کے پیچھے ہو۔ ھکذا رواہ مالك فی مؤطاہ مو قو فا (اسی طرح
اس حدیث کوامام مالك نے مؤطا میں موفوقًا روایت کیا ہے ۔ت) اور امام ابو جعفر احمد
بن سلامہ طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے معانی الآثار میں اسے ورایت کیا اور ارشادات
سیدمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے قرار دیا، وا ﷲ تعالٰی اعلم ۔حافظ ابو عیسٰی
ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سیدنا امام الائمہ مالك الازمہ سراج الاُمہ
کاشف الغُمہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو فی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعن
مقلدیہ باحسان روایت فرماتے ہیں:
حدیث۴: حدثنا ابوالحسن موسٰی بن ابی عائشۃ عن عبداﷲ بن شداد بن الھاد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ [3] ۔یعنی حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا ہے۔فقیر کہتا ہے یہ حدیث صحیح ہے رجال اس کے سب رجال صحاح ستّہ ہیں۔ورواہ محمد ھکذا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع