30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالا وراد واختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت وفی حفظی حملہ علی القلیلۃ [1]۔ |
دعاؤں کی وجہ سے فصل(وقفہ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تواختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اورادِ قلیلہ پر محمول کیا ہے۔(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
قول الحلوانی لاباس الخ والمشھور فی ھذہ العبارۃ کون خلافہ اولی فکان معناھا ان الاولی ان لا یقرأ ای الاوراد قبل السنۃ ولو فعل لا باس [2]اھ مختصرا نقلہ الشامی ثم قال وتبعہ علی ذلك تلمیذہ فی الحلیۃ وقال فتحمل الکراھۃ فی قول البقالی علی التنزیھیۃ لعدم دلیل التحریمیۃ حتی لوصلاھا بعد الاورادتقع سنۃ مؤادۃ لکن لافی وقتھا المسنون[3]۔ |
حلوانی کا قول لا باس الخ(دعاؤں کی وجہ سے فصل (وقفہ) میں کوئی حرج نہیں) اس عبارت میں مشہور ہے کہ اس کا خلاف اولٰی ہے اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ سنّت سے پہلے (اوراد کا) نہ پڑھنا اولٰی ہے، اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس میں حرج نہیں اھ اختصارًا ۔ شامی نے اس کو نقل کرکے اس کے بعد فرمایا حلیہ میں ان کے شاگرد نے ان کی اتباع کی اور کہا مکروہ تحریمی پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بقالی کے قول میں کراہت کو کراہت تنزیہی پرمحمول کیا جائے گا۔حتٰی کہ اگر کسی شخص نے اوراد کے بعد سنّتیں ادا کیں تو وہ ادا ہی ہونگی البتہ وقت مسنون میں ادا نہیں ہوئیں(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقعد الابمقدر ارما یقول اللھم انت السلام الخ قال وقول عائشۃ بمقدار لا یفیدانہ کان یقول |
مسلم اورترمذی نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (نماز فرض کے بعد) اللھم انت السلام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے ۔شامی نے کہاکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے قول کی بمقدار سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع