30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سبع مرات فانك ان مت لیلتك کتب اﷲ لك جوارا من النار [1]چوں نمازبا مداد اد اکنی پیش ازآنکہ با کسے سخن گوئی ہفت بارایں دعا کن خدا یا مرا از دوزخ پناہ دہ کہ اگرآں روز میری حق جل وعلا برائے تو پناہ از دوزخ نویسد وچوں نماز شام گزاری ہمچناں کن اگرآں شب میری ہمچناں شود اللھم اجرنا من النار برحمتك یا عزیز یاغفار وصلی اﷲ تعالٰی علی نبیہ المختار واٰلہ الاطھار وبارك وسلم ۔ واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم ۔ |
نماز پڑھ لو تو لوگوں سے گفتگو سے پہلے سات دفعہ یہ دعا پڑھ لو اللھم اجرنی من النار(اے اﷲ!مجھے جہنم کی آگ سے بچالے ) اگر اس رات تجھے موت آگئی تو اﷲ تعالٰی تجھے جہنم سے آزادی عطا فرمائے گاــ"اے اﷲ! ہمیں بھی اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے آزاد فرما یا عزیز یا غفار وصلی اﷲ تعالٰی علی نبیہ المختار واٰلہ الاطھار وبارك وسلم ۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ نمبر ۴۴۷: از ندی پار بتی علاقہ ریاست گوالیار گوتاباور ریلوے ڈاك خانہ ندی مذکور مرسلہ سید کرامت علی صاحب، محرر منشی محمدامین صاحب ٹھیکیدار ریلوے مذکور ۴رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ
بخدمت فیض درجت مولٰینا و مرشد نا مولوی احمد رضاخان صاحب دام اقبالہ، السلام علیك واضح رائے شریف ہو کہ بوجہ چند ضروریات کے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ بنظر توجہ بزرگانہ جواب سے معزز فرمایا جاؤں ۔وظیفہ یا درود شریف بلند پڑھنا درست ہے یا نہیں ان معاملات میں کچھ شبہ ہے اور کچھ دلیل بھی ہوئی ہے لہذا دریافت کی ضرورت ہوئی۔
الجواب:
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ۔ درود شریف خواہ کوئی وظیفہ بآواز نہ پڑھا جائے جبکہ اُس کے باعث کسی نمازی یا سوتے مریض کی ایذا ہو یا ریا آنے کا اندیشہ اور اگر کوئی محذورنہ موجود ہو نہ مظنون تو عندالتحقیق کوئی حرج نہیں تاہم اخفا افضل ہے لما فی الحدیث خیر الذکر الخفی [2](جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ذکر خفی بہتر ہے۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۴۴۸: از میرٹھ دفتر طلسمی پریس مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس ۱۳ رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادھر کے لوگ صبح اورعصر میں بعد سلام ،اول تسبیحات پڑھ کر دعا مانگتے اور وہاں بعد سلام فورًا دعا ، ان میں کون سا طریقہ سنّت ہے اور کیا ثبوت ہے؟
الجواب:
نماز کے بعد دُعا ثابت ہے اور تسبیح حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا بھی صحیح حدیثوں میں آئی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع