30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم
کا یہ معمول مبارك تھا کہ جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ پڑھتے لا الہ الا اﷲ وحدہ
لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھوعلی کل شئی قدیر اللھم لامانع لما اعطیت ولا
معطی لما منعت ولاینفع ذاالجدمنك الجد(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا و یکتا
ہے اسکا کوئی شریك نہیں ملك و بادشاہی اور حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر شئی پر
قادر ہے اے اﷲ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روك نہیں سکتا ،جسے تو روك لے اسے کوئی
دے نہیں سکتا کسی کا بخت ودولت تیرے قہر و غضب سے اسے نفع نہیں دے سکتا اللھم لا
مانع لما اعطیت الخ یہ کلماتِ دُعا نہیں تو کیا ہیں؟ بلکہ لہ الحمد خود بہترین
دعا ہے ۔ ترمذی ،نسائی،ابن حبان اور حاکم نے اول بطور تحسین اور آخری بطور تصحیح
حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ سیّد عالم صلی اﷲ
تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل ذکر لا الہ الااﷲ ہے اور سب سے افضل
دُعاالحمدﷲ کہنا ہے ۔(ت)
|
الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علٰی کل شیئ قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذاالجد منك الجد [1]۔ یعنی امیر معاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مر مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ را نوشت کہ مہراآگہی دہ بچیزے باشی مغیرہ گفت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چوں نماز ختم نمودے چناں فرمودے ہیچکس سزائے پرستش نیست جز خدائے یکتائے بے ہمتا، مراد راست پادشاہی و مراد راست ستائش واوبر ہر چہ کہ خواہد تواناست خدایا ہیچ بازدارندہ نیست چیزے را کہ تو دہی وہیچ دہندہ نیست چیزے را کہ تو بازداری وسود ندہد خداوند بخت ودولت رااز قہر و عذاب توآں بخت و دولتش، اللھم لامانع لما اعطیت الخ اگر دعا نیست آخر چیست بلکہ لہ الحمد خودبہترین دعاست ترمذی و نسائی و ابن حبان و حاکم اول بتحسین و آخر بتصحیح از جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما آوردند کہ سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ افضل ذکر لا الٰہ الا اﷲ و افضل الدعاء الحمد ﷲ [2]۔بہترین ذکر لا الٰہ الا اﷲ و بہترین دعا الحمدﷲ گفتن ست۔حدیث پنجم: در سنن نسائی از عطاء ابن ابی مروان از پدرش مروی ست ان کعبا حلف باﷲ الذی فلق البحر لموسی انالنجد فی التوراۃ ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع