30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رب کی طرف رغبت کرو۔اس آیۃ کریمہ کی تفسیر میں راجح قول حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چچا زاد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کا ہے کہ فراغ فراغ نماز و نصب نصب در دعاست یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو دعا میں خوب محنت کرو اور بارگاہِ خداوندی میں آہ و زاری کے ساتھ رغبت کرو۔ جلالین کے خطبہ میں یہ بھی ہے کہ جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ انہی کے طریقہ پر ہے اور ان کا طریقہ یہ ہے کہ وُہ مختار و راجح پر اعتماد کرتے ہیں اور ایسے اقوال کا ذکر جو مختار نہ ہوں ،ترك کرتے ہیں اھ تلخیصًا ۔علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا یہی صحیح ہے کیونکہ اس پرجلال الدین نے اقتصار کیا اور انہوں نے مختار و راجح قول کے ذکر کا التزام کر رکھا ہے۔(ت) پہلی حدیث: ۱ مسلم، ۲ابوداؤد ،۳ترمذی ، ۴نسائی ، ۵ابن ماجہ، ۶احمد،۷ دارمی،۸براز،۹طبرانی اور ۱۰ابن السنی ان تمام نے حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ خادم رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب حضور سید المرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین نماز سے رُخ انور پھیرتے (سلام کہتے) تو تین دفعہ اﷲ تعالٰی سے استغفار کرتے اور یہ
|
وسلم عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما ست کہ فراغ فراغ از نماز و نصب نصب دردُعاست یعنی چوں ازنماز فارغ شوی در دعا جہد و مشقت نما و بسوئے پروردگار خودبزاری و تضرع گرا فی تفسیر الجلالین فاذا فرغت من الصلٰوۃ فانصب اتعب فی الدعاء وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ﴿۸﴾[1]۔ [2] ہمدرد خطبہ ادست ھذا فی تکملۃ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجع الاقوال و ترك التطویل بذکرالاقوال غیر مرضیۃ [3]۔ اھ ملخصًا ۔علامہ زرقانی درشرح مواہب لدنیہ فرماید ھو الصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال[4]۔ حدیث اوّل: مسلم ،ابوداؤد وترمذی ونسائی و ابن ماجہ و احمدودارمی و بزار و طبرانی و ابن السنی ہر ہمہ ازثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ مولائے اقدس سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم روایت کنند قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا انصرف من صلاتہ استغفر ثلاثا وقال اللھم انت السلام تبارکت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع