30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من التتار خانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف و تخفیف الانبیاء کفربلاشك ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصد والافالظاھر انہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفرابعد تسلیم کونہ مذھبًا مختارا محلہ اذاکان اللزوم بَیّنًا نعم الاحتیاط فی الاحتزار عن الایھام و الشبھۃ [1]۔ |
لکھا پڑھا جائے تاتار خانیہ میں بعض جگہ پر ہے جس نے درود و سلام ہمزہ(ء) اور میم(م) کے ساتھ لکھا اس نے کفر کیا کیونکہ یہ عمل تخفیف ہے اور انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں یہ عمل بلا شبہ کفر ہے۔ اگر یہ قول صحت کے ساتھ منقول ہو تو یہ مقید ہوگا اس بات کے ساتھ کہ ایسا کرنے والا قصدًا ایسا کرے ، ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر نہیں باقی لزومِ کفر سے کفر اس وقت ثابت ہوگا جب اسے مذہب مختار تسلیم کیاجائے اور اس کا محل وُہ ہوتا ہے جہاں لزوم بیان شدہ اور ظاہر ہو البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایہام اور شبہ سے احتزار کیا جائے۔(ت) |
اب جوابِ مسئلہ لیجئے نامِ پاك حضور پُرنور سیّد ودعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت وعیدوں میں گرفتار ، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ اگرایك ہی جلسہ میں چند بار نامِ پاك لیا یا سُنا تو ہر بار واجب ہے یا ایك بار کافی اور ہر بار مستحب ہے، بہت علما قولِ اول کی طرف گئے ہیں ان کے نزدیك ایك جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایك بار بھی چھوڑ ا گنہگار ہُوا مجتبٰی ودُرمختار وغیرہما میں اس قول کو مختار واضح کہا۔
|
فی الدرالمختار اختلف فی وجوبھا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و المختار تکرار الوجوب کلماذکر ولو اتحد المجلس فی الاصح [2] اھ بتلخیص ۔ |
دُمختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرناواجب ہے یا نہیں اصح مذہب پر مختارقول یہی ہے کہ ہر بار درودوسلام واجب ہے اگر چہ مجلس ایك ہی ہو اھ خلاصۃً(ت) |
دیگر علمانے بنظر آسانیِ امت قولِ دوم اختیار کیا ان کے نزدیك ایك جلسہ میں ایك بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کرے گا زیادہ کے ترك سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم و فضلِ جسیم سے بیشك محروم رہا، کافی وقنیہ وغیرہما میں اسی قول کی تصحیح کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع