30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاعمال والتحریض علی التأدب فی حضرۃ اﷲ ولیس فیہ ما یحلہ الشرع ولا العقل بل ولافیہ احد رمی بروایۃ الموضوعات کابی عقال فکیف یتجہ الحکم علیہ بالبطلان بل الوضع بمجرد کون بعض روایۃ ممن لم یعرفھم الحافظ اولم یذکرھم فلان وفلان ،علا ان مھدی بن میمون عندی وھم من بعض رواۃ ابن النجار لان عیسی بن یونس عند ابی نعیم و سفین بن زیاد عندالدیلمی انما یرویانہ عن العباس عن یزید عن میمون بن مھران کما تقدم و میمون ھو ابوایوب الجزری الرقی ثقۃ فقیہ من رجال مسلم والاربعۃ کما قالہ الحافظ فی التقریب لاجرم لم یمنع کلام الحافظ ھذا خاتم الحافظ السیوطی عن ایرادہ فیما وعد بتنزیھہ عن الموضوع اماقول تلمیذہ الحافظ السخاوی حدیث صلٰوۃ بخاتم تعدل سبعین صلٰوۃ بغیر خاتم ھو موضوع کما قال شیخناوکذامارواہ الدیلمی عن حدیث ابن عمر مرفوعا بلفظ صلٰوۃ بعمامۃ الحدیث المذکور ومن حدیث انس مرفوعا الصلٰوۃ فی العمامۃ تعدل بعشرۃ الاف حسنۃ[1] اھ فلم یذکر وجھہ |
موضوعہ نقل کرتا ہے جو حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بالکل بیان نہیں کیں لہذا کسی صورت میں بھی اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا اھ اورامام ذہبی نے میزان میں کہا یہ باطل ہے اور خود حافظ ابن حجر نے اس روایت کے بارے میں کہا یہ روایت فضائل اعمال سے متعلق ہے اس میں اﷲ کی راہ میں جہاد کی ترغیب اور شوق دلایا گیا ہے۔اس میں ایسی کوئی بات نہیں جسے عقل و شرع محال قرار دیتی ہو لہذا محض اس لئے اس باطل قرار دینا کہ اس کا راوی ابوعقال ہے قابل حجّت نہیں۔ اور امام احمد احادیثِ احکام میں تو نہیں لیکن احادیثِ فضائل میں تسامح سے کام لیتے ہیں ان کا یہ طریقہ معروفہ ہے اھ میری سمجھ سے باہر ہے یہی قول عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائلِ اعمال سے متعلق ہے اور اس سے بارگاہ الہٰی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جسے شرح و عقل محال قرار دیتی ہو بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے ابوعقال کی طرح موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو، تو اس روایت پر بطلان بلکہ موضوع ہونے کا حکم (محض اس بنا پر کہ بعض روایات کا ایسے راویوں سے ہونا جن کوحافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کا ذکر نہیں کیا) کیسے درست ہوسکتا ہے،علاوہ ازیں میرے نزدیك ابن نجار کے بعض رواۃ میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع