30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شرع ولا فی سندہ وضاع ولاکذاب ولامتھم ومجرد جھل الراوی لایقضی بالسقوط حتی لایصلح للتمسك بہ فی الفضائل فضلا عن الوضع، ولمااورد الحافظ ابو الفرج ابن الجوزی حدیث قزعۃ بن سوید عن عاصم بن مخلد عن ابی الاشعث الصنعانی عن شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من قرض بیت شعر بعد العشاء الاخرۃ لم تقبل لہ صلاۃ تلك اللیلۃ[1] فی الموضوعات واعلہ بان عاصما فی عداد المجھولین و قزعۃ قال احمد مضطرب الحدیث و قال ابن حبان کان کثیر الخطا فاحش الوھم ،فلما کثر ذلك فی روایتہ سقط الاحتجاج بخبرہ [2] اھ قال الحافظ نفسہ فی القول المسدد لیس فی شیئ من ھذا ما یقضی علٰی ھذاالحدیث بالوضع[3] الخ ،ولما حکم ابن الجوزی علی حدیث ابی عقال عن انس ابن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العسقلان احدالعروسین یبعث منھا یوم القیامۃ |
حالانکہ اس روایت میں ایسی کسی چیز کا بیان نہیں جسے عقل و شرع محال گردانے اور نہ ہی اس کی سند میں وضاع، کذاب اور متہم ہے محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ فضائل میں قابلِ استدلال ہی نہ رہے چہ جائیکہ وہ موضوع ہو ۔حافظ ابن الفرج ابن الجوزی نے حدیثِ قزعہ بن سوید، عاصم بن مخلد سے انھوں نے ابواشعث صنعانی سے انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موضوعات میں بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے آخری عشاء کے بعد شعر کا ایك بیت پڑھا اس کی اس رات کی نماز قبول نہ ہوگی ، اور علت یہ بیان کی کہ عاصم کا شمار مجہولین میں ہوتا ہے۔قزعہ کے بارے میں امام احمد کاقول ہے کہ یہ مضطرب الحدیث ہے۔ابن حبان نے کہا کہ یہ کثیر الخطا اور فاحش الوہم ہے، آخر میں فرمایا جب اس کی روایت میں علتیں ا س قدر کثیر ہوگئیں تو اس کی روایت سے استدلال ساقط ہوگیا اھ اورخودحافظ نے القول المسدد کہا یہاں پر کوئی ایسی چیز نہیں جو اس حدیث کے موضوع ہونے کا فیصلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع